You are currently viewing ملزمان کی نشاندہی کر دیں تو خود پکڑ کر لے آتا ہوں،جسٹس شوکت عزیز صدیقی

ملزمان کی نشاندہی کر دیں تو خود پکڑ کر لے آتا ہوں،جسٹس شوکت عزیز صدیقی

اسلام آباد(ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اور کیا کرسکتی ملزمان کی نشاندہی کردیں تو خواد پکڑ کر لے آتا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں گستاخانہ مواد کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی جس میں ڈی جی ایف آئی اے ،سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین پیمرا پیش ہوئے۔سماعت کے دوران طارق اسد ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صرف متنازع پیجز کو بلاک کرنا مسئلے کا حل نہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ آئی ٹی نے 3 ہفتے کی مہلت لی تھی مگر کچھ نہیں کیا۔جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ بلاگرز بیرون ملک جا چکے تو انہیں کس طرح واپس لایا جائے، عدالت اس سے زیادہ کیا کر سکتی ہے؟ ملزمان کی نشاندہی کر دیں تو خود پکڑ کر لے آتا ہوں۔درخواست گزار کے وکیل مظہر کاکا خیل نے کہا کہ ہم رحمان بھولا کو لا سکتے ہیں تو بلاگرز کو بھی لا سکتے ہیں۔ملزم نامزد ہوں توریڈ وارنٹ جاری کروا کے واپس لایا جاسکتا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ عبوری حکم ابھی اور تفصیلی فیصلہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد جاری کیا جائے گا اور یہ خیال رکھا جائے کہ کیس میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔