You are currently viewing پاکستان د نیا میں صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ممالک میں چو تھے نمبر پر

پاکستان د نیا میں صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ممالک میں چو تھے نمبر پر

کراچی( اسٹاف رپورٹر) آج پاکستان میں کوضابطہ اخلاق کی صحافیوں سے زیادہ میڈیامالکان کو ضرورت ہے۔الیکٹرانک میڈیا نے قدروں کو کھودیا ہے پاکستان د نیا میں صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔یہ بات

کراچی پریس کلب کے صدر سراج احمد،سینئرصحافی ار مبشر زیدی، اعزار سید ، سجاداظہراور فہیم صدیقی نے پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے پاکستانی میڈیا کیلئے جاری ضابطہ اخلاق کی تقریب اجراء کے موقع پرکراچی پریس کلب میں سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہیں ان ان کا کہنا تھا کہ ر پورٹنگ کے دوران صحافتی اقدارکی پاسداری کرتے ہوئے حادثات اور سانحات سے متاثرہ افراد کی نجی زندگی میں مداخلت سے گریزکیاجائے۔
میڈیا میں عوامی شکایات کے ازالے کے لئے محتسب یاعوامی ایڈیٹر کا عہدہ تخلیق کیا جائے۔پاکستان دنیا میں صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔1990سے اب تک پاکستان میں 115صحافی شہیداور85زخمی ہوئے۔ان کے قاتلوں اور حملہ آوروں کا آج تک پتانہیں چل سکاہے۔پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشرزیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحافت آج خطرناک ترین پیشہ بن چکا ہے۔کوڈآف ایتھکس پر عملدرآمد کیلئے پی ایف یوجے اور صحافتی تنظیموں کو کرداراداکرناہوگا۔
سینئرصحافی اعزارسیدکاکہنا تھا کہ فاٹا،خیبرپختونخوا،کراچی اور بلوچستان میں صحافیوں پربے شمارحملے ہوئے۔شدت پسندتنظیموں،قوم پرست جماعتوں،سیاسی پارٹیوں اور ریاستی اداروں سے ہر دور میں صحافیوں کو خطرات کا سامنا رہاہے۔انکا کہنا تھا کہ کوڈ آف ایتھکس کو مدنظررکھتے ہوئے صحافیوں کواپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دینے چاہیے۔کراچی پریس کلب کے صدرسراج احمد کا کہنا تھا کہ معاشرہ عدم برداشت کی جانب چلاگیاہے۔صحافیوں کا کام واقعہ کی رپورٹ بناکرعوام کے سامنے پیش کرناہے۔تفتیشی افسربنناصحافی کاکام نہیں ہے۔صحافی معاشرہ کو رونماہونے والے واقعات سے آگاہ کرتاہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے کوڈ آف ایتھکس کو صحافیوں سے زیادہ میڈیاہاؤسز کے مالکان کو بتاتازیادہ ضروری ہے۔