You are currently viewing کارگل محاز کے دوران پاکستانی ایئربیس پر حملہ حکومتی اجازت نہ ملنے پر ملتوی ہوا:بھارتی میڈیا کا دعویٰ

کارگل محاز کے دوران پاکستانی ایئربیس پر حملہ حکومتی اجازت نہ ملنے پر ملتوی ہوا:بھارتی میڈیا کا دعویٰ

  • Post author:
  • Post category:دنیا
  • Post last modified:20/07/2016 17:55
  • Reading time:1 mins read

نئی دلی (ڈیسک)بھارتی میڈیا  کے این ڈی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ 13 جون 1999 کو بھارتی ایئرفورس کی جانب سے  پاکستان ایئربیسس پر حملے کے لئے  پائلٹوں کو متعین کردہ اہداف کو نشانہ بنانے کے احکامات بھی جاری کردیے گئے تھےلیکن  حکومتی اجازت نہ ملنے پر فیصلہ ملتوی کیا گیا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق دعویٰ میں کہا گیا ہے  بھارتی میڈیا کو  انڈین ایئرفورسز کی کچھ دستاویزات حاصل ہوئی ہیں  جس کی رو سے  بھارتی  فضائیہ نے 13 جون 1999 کو کنٹرول لائن کی دوسری جانب حملے کی تیاری کرلی تھی جس کے لئے تمام پائلٹوں کو حملے کے متعین اہداف بھی جاری کردئیے گئے تھے جبکہ  اندین پائلٹسوں نے ذاتی پستولیوں میں گولیاں ڈال کر ہر تیاری مکمل کرلی تھی ۔

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مشن کے مطابق 4 ایئرکرافٹ کو آزاد کشمیر اور بی ڈی اے کو راولپنڈی میں پاک فضائیہ کی اہم ترین چکلالہ ایئربیس پر حملہ کرنا تھا۔

بھارتی فضائیہ پاکستانی ائر بیس پر حملہ کرنے والی تھی ،حکومت نے اجازت نہیں دی

بھارتی میڈیا کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ  کارگل محاذ کی جنگ چھڑ جانے کے دوران انڈین کیپٹن سہراب کالیا سمیت 6 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کی بناء پر پاکستانی وزیرخارجہ سرتاج عزیز نے اپنے ہم منصب جسونت سنگھ سے ملاقات کی

تاہم 12 جون کو مذاکرات  ناکام ہونے کے نتیجے میں دن 4 بجے جنگی طیاروں کے تمام پائلٹوں کو طلب کیا گیا جنہیں 13 جون کی صبح کمانڈ ایئر ٹاسکنگ آرڈر دیا گیا اور ایئرفورس کی 17 اسکوارڈن کو سری نگر ایئربیس سے حملہ کرنا تھا۔

13جون کی صبح 4 بجکر 30 منٹ پر جنگی طیاروں کو حملے کے لئے تیار رہنے کے احکامات جاری کئے گئے تاہم پائلٹوں کو ایگزی کیوشن آرڈر جاری نہیں کئے گئے جس کے بعد وہ  اعلی ٰ عہدیداران کی جانب سے کی جانب سے حتمی احکامات کا انتظار کرتے رہے  لیکن انہیں احکامات جاری نہیں کئے گئے بلکہ انہیں 12 بجکر 30 منٹ پر واپس آنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ۔