You are currently viewing شام وعراق کے 22فیصد علاقوں سے داعش کا قبضہ ختم کرالیا گیا، رپورٹ

شام وعراق کے 22فیصد علاقوں سے داعش کا قبضہ ختم کرالیا گیا، رپورٹ

واشنگٹن (اسٹاف رپورٹر) گزشتہ ڈیڑھ سال میں شام وعراق کے 22 فیصد علاقوں پر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرالیا گیا۔

بین الاقوامی نگران گروپ ’آئی ایچ ایس‘ کے تجزیے کے مطابق شدت پسند تیزی سے الگ تھگ ہورہے ہیں اور تصور کیا جارہا وہ پسپا ہورہے ہیں، آئی ایچ ایس نے خاص طور پر شمالی شام اور ترکی کی سرحد کے درمیان واقع علاقوں کا تذکرہ کیا ہے جہاں امریکہ کی زیرقیادت اتحاد اور روس کی فضائی کارروائیوں کے ساتھ کرد اور سنی جنگجوؤں کی زمینی کارروائیوں کی بدولت شدت پسندوں کی سرحد کے آر پار نقل وحرکت مسدود ہوئی تاہم اس اہم علاقے میں شام کے ایک محدود مقام پر تاحال داعش کا تسلط باقی ہے کہ جہاں سے وہ ترکی کے راستے غیرقانونی طور پر اپنے جنگجوؤں اور رسد لاسکتی ہے۔

روس کی فضائی کارروائیوں پر مغرب یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ ماسکو داعش سے زیادہ اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کے باغیوں کو نشانہ بنارہا ہے لیکن گزشتہ سال 30 ستمبر کو شروع ہونے والی روسی فضائی کارروائیوں کا مجموعی طور پر داعش کیخلاف مہم پر انتہائی قابل ذکر اثر مرتب ہوا۔