You are currently viewing گلگت بلتستان کی پسماندگی دور کرنےکے لئے وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی دلچسپی سے377 ارب روپے کےترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے

گلگت بلتستان کی پسماندگی دور کرنےکے لئے وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی دلچسپی سے377 ارب روپے کےترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے

  • Post author:
  • Post category:سیاست
  • Post last modified:22/11/2021 17:17
  • Reading time:1 mins read

اسلام آباد (ڈیسک)گلگت بلتستان کی پسماندگی دور کرکے اسے دیگر علاقوں کے برابر لانے اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئےوزیر اعظم عمران خان کی خصوصی دلچسپی سے 232 ارب روپے مالیت کے 42 نئے منصوبوں سمیت 377 ارب روپے کے گلگت بلتستان ترقیاتی پیکیج کے تحت مینوفیکچرنگ،کامرس، معدنیات کے شعبوں میں مختلف منصوبوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

سرکاری ذرائع سےدستیاب معلومات کے مطابق اس پیکیج کے تحت گلگت بلتستان میں پھلوں اور سبزیوں کی پروسسنگ اور ڈی ہائیڈریشن یونٹ،کاٹیج انڈسٹری کے فروغ،بزنس پروموشن سنٹر گلگت اور جی بی میں معدنیات کی تلاش کے لئے جیالوجیکل میپنگ شامل ہے۔اس پیکیج میں کلین انرجی و ہائیڈرو پاور کے 139 ارب روپے کی لاگت کے 10،ٹرانسپورٹ کمیونیکیشن کے 35 ارب روپے کی لاگت کے 5منصوبے اور 6 ارب روپے کی لاگت کے سیاحت کے 6 منصوبے شامل ہیں، جی بی میں صحت کے شعبہ میں جدید سہولیات اور آلات کی خریداری و انفراسٹرکچر کے لئے 15 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت کے 6،تعلیم کے شعبہ کی بہتری کے لئےایک ارب 80 کروڑ روپے کے 2،واٹراینڈ سینی ٹیشن کے ساڑھے 8 ارب روپے کے 2 منصوبے بھی پیکیج کا حصہ ہیں نیز اس پیکیج کے تحت غربت کے خاتمہ،امور نوجوانان اور خواتین کی ترقی کے لیے 1 ارب روپے کا ایک،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 50 کروڑ روپے کے 4،ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے 3 ارب 60 کروڑ روپے کے 5 منصوبے رکھے گئے ہیں۔اس خصوصی پیکیج کے نئے منصوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان میں اس وقت سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 31 ارب 20 کروڑ روپے کے 11 اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 113 ارب 80 کروڑ روپے کے 2ہزار 114 منصوبوں پر کام جاری ہے۔گلگت بلتستان کو جانے والی مین شاہراہ تھاکوٹ حویلیاں موٹر وے منصوبے کا دوسرا فیز 28 جولائی 2020 کو مکمل کرکے ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔یہ منصوبہ سی پیک کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سی پیک کے تحت جی بی میں چین پاکستان جوائنٹ ایگریکلچرل ڈومانسٹریشن کے منصوبے پر رواں سال عملدرآمد کی توقع ہے۔گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ پی ٹی ڈی سی نےیہاں پر سیاحت کے فروغ کے لئے اپنے تمام ہوٹل اور موٹلز لیز پر دینے کی وفاقی کابینہ سے منظوری لے لی ہے جس سے حاصل ہونے والی آمدن کا 50 فیصد گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے لگایا جائے گا۔وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کو علاج کے لئے ہیلتھ کارڈ کی سہولت بھی دی گئی ہے جبکہ احساس پروگرام کے تحت بھی یہاں کے لوگوں کو برابر حصہ دیا جارہا ہے۔گلگت بلتستان میں پن بجلی کے حصول کے بہت مواقع ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومت 198 میگاواٹ کے منصوبوں پر عملدرآمد کررہی ہے۔مالی سال22۔2021کے دوران پن بجلی کے20 منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔اس دوران 460 کلومیٹرتک نئی سڑکیں بنائی گئیں اور 240 کلومیٹر سڑکوں کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے۔اس کے علاوہ45 پل،8 کلومیٹر اریگیشن چینلز اور 7 واٹر پیوریفیکیشنز پلانٹس نصب کئے گئے۔اس عرصہ میں جی بی کے 500 طالب علموں کو سکالرشپس دی گئیں۔ علاوہ اذیں کھیتوں سے سبزیاں و پھل مارکیٹ پہنچانے کی غرض سے 400 کلو میٹر نئی روڈز بنائی جارہی ہیں اور یہاں کئی نیشنل پارکس بنائے گئے ہیں۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ملانے کے لئے اربوں روپے لاگت کی شاہراہ کی تعمیر کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔