You are currently viewing کراچی: کیماڑی میں 15بچوں کی اموات، محکمہ صحت کی وجوہات جاننے کی کوشش

کراچی: کیماڑی میں 15بچوں کی اموات، محکمہ صحت کی وجوہات جاننے کی کوشش

کراچی (ڈیسک) کیماڑی کے علاقے علی محمد لغاری گوٹھ میں 15بچوں کی اموات کی وجوہات جاننے کی کوششیں جاری ہیں۔
محکمہ صحت کے ابتدائی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذکورہ علاقے میں ممکنہ طور پر فیکٹریوں کازہریلا دھواں ان اموات کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ عام طور پر پاکستان میں صنعتوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے فضلے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی مثالی نظام موجود نہیں ہے، فیکٹریوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹ نہ ہونے کے باعث زہریلا مواد زمین، سمندر اور فضا میں خارج کر دیا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں میں مہنگے ایندھن سے بچنے کے لیے پلاسٹک کو سستے ایندھن کے طور پر جلایا جاتا ہے، جس سے فضا خطرناک کیمیکلز سے آلودہ ہو جاتی ہے جب کہ ایسی فضا میں سانس لینے سے سینہ جکڑ جاتا ہے۔
دوسری بڑی ممکنہ وجہ سویابین کی آلودگی بتائی جاتی ہے، سویابین سے تیل بنانے کے دوران نکلنے والے فاضل مادے ہمارے ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں۔
تیسری بڑی وجہ محکمہ صحت کی جانب سے اب سامنے لائی گئی ہے جس کے مطابق علاقے کے 49بچے خسرہ کی بیماری میں مبتلا تھے، ان بچوں کو خسرہ اور دیگر امراض سے بچائو کے ٹیکے نہیں لگوائے گئے تھے۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ان علاقوں سے ہوا، پانی، مٹی کے نمونے لیے گئے ہیں جن کے ٹیسٹ کے بعد ہی صورت حال واضح ہو سکے گی۔
پراسرار بیماری سے ہلاک ہونے والے بچوں میں 9بچیاں اور 6بچے شامل ہیں، جن کی تدفین کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ محکمہ صحت نے بچوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے ان کے والدین سے درخواست کی لیکن انھوں نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا ہے۔
محکمہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں مختلف چھوٹی بڑی صنعتیں دن رات کام کرتی ہیں جن میں پلاسٹک، گریس، موٹر انجن آئل بنانے کی فیکٹریاں اور پتھر توڑنے والے کارخانے موجود ہیں جن سے ہر وقت فضائی آلودگی کا خطرہ موجود ہے۔