You are currently viewing کراچی میں سارے پروجیکٹ مٹی کا ڈھیر اور شہریوں کی  زندگی عذاب ہوگئی ہے، چیف جسٹس

کراچی میں سارے پروجیکٹ مٹی کا ڈھیر اور شہریوں کی زندگی عذاب ہوگئی ہے، چیف جسٹس

کراچی (ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی سرکلر ریلوے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہےکہ کراچی میں سارے پروجیکٹ مٹی کا ڈھیر ہیں جو گرجائیں گے اور والوں کی زندگی عذاب ہوگئی ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سرکلر ریلوےکی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے جس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ، اٹارنی جنرل، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری ریلوے سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھ کر سنایا اور کراچی ماس ٹرانسپورٹ پلان کی کاپی عدالت میں پیش کی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گرین لائن پروجیکٹ اور اورنج لائن مکمل ہوچکا اور یہ جلد آپریشنل ہوجائیں گے جب کہ دیگر پر کام ہورہا ہے، ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک پیسہ فراہم کررہے ہیں۔

اے جی سندھ کی رپورٹ پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مکالمہ کیا کہ جس طرح نقشے دیتے ہیں اس طرح کام بھی ہونا چاہیے، یہ فیوچر ٹرانسپورٹ پلان نہیں ہے، آپ خرچا کرنا چاہ رہے تھے اور پیسہ بانٹنا چاہ رہے تھے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ گرین لائن سرجانی ٹاؤن سے شروع ہورہا ہے اور اس پر کام تین سال پہلے شروع ہو ا تھا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تین سال میں تو پورے ایشیاء میں روڈ بن جاتیں، پیسہ ہے، بندے ہیں، ایک سال میں تمام پروجیکٹ کیوں مکمل نہیں ہوئے، اتنی بڑی بڑی روڈز ہیں ایک سال میں بن جاتی ہیں۔

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.