You are currently viewing پچھتاوہ

پچھتاوہ

تحریر: اثناء خان

صبح آنکھ کھُلتے ہی آنکھیں مسلتے ہوئے ثناء نے ایک اپنے ڈیجیٹل ٹائم پیس پر جو نظر ڈالی تو اس وقت 7:52 ہورہے تھے۔ وہ ایک جھٹکے سے اپنے بستر سے اُٹھی۔ کمرے میں ہر طرف سنّاٹا چھایا ہوا تھا۔ سامنے دیوار پر لگی گھڑی کی ٹِک ٹِک کرتی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ دل تو چاہا گھڑی کے کانٹے یا تو پیچھے کردیئے جائیں یا کسی طرح گھڑی میں سیکنڈ کی رفتار سے بھاگنے والے اس کانٹے کو روک دیا جائے۔ خیر اِن خیالوں کی دنیا سے باہر نکل کر ثناء بھاگم بھاگ مُنہ ہاتھ دھونے اور دانت مانجنے چلی گئی۔ جلدی اس بات کی تھی کیوں کہ پورے 8 بجے ویں بھی آنے کو تھی۔ گھڑی کے اس کانٹے کی طرح ثناء نے بھی جلدی جلدی اپنی تیاری شروع کردی۔ یونیفارم تبدیل کرنا، بال سمیٹنا، اسکارف پہننا، پانی کی بوتل بھرنا اور جوتے پہنے سمیت جیسے ہی یہ تمام کام مکمل کرکے ثناء اپنا بیگ اور فائل سنبھالے گھر سے باہر نکلی تو اسکی نظروں کے سامنے اسکی وین اسے چھوڑ کر جارہی تھی۔ وہ پیچھے کھڑی اُس سفید ہائی روف کو ہاتھ ہلاتی رہ گئی کہ  شاید اس وین میں سوار کوئی لڑکی اسکا اشارہ دیکھ لے لیکن یہ اسکی خوش فہمی تھی۔ اب یونیورسٹی پہنچا تو تھا کیوں کہ آج ثناء کا تیسرا پرچہ جو تھا اور صبح وقت پر آنکھ نہ کھُلنے کی بھی اصل  یہی وجہ تھی کہ رات گئے خاصی دیر تک جاگ کر پڑھا جو تھا۔ آج کا ہونے والا پرچہ خاصا مشکل بھی تھا لہٰذا وہی خیال رات بھرنیند میں بھی ستاتے رہے۔ ان تمام تر صورتحال کے بعد سب سے پہلے ثناء نے اپنے دماغ کو حاضر کیا اور رکشے میں سوار ہوکر یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن رکشے میں اکیلے سفر کرنے کی اُسکی ہمت نہ ہوئی اور بےشمار وسوسے اُسکے ذہن میں کھنکھنانے لگے۔ اور پھر یہی سوال کہ اب کیا کیا جائے؟ ایک دم ایک اور خیال نے اسکے ذہن میں دستک دی۔ کیوں نہ بس میں سفر کرلیا جائے؟ لیکن نہیں….. اگر بس میں سفر کرنے کا ارادہ کیا پرچے کا آدھا گھنٹہ تو اس میں نکل جائے گا۔ بس کے سفر کا سوچ کر ہی ذہن پر کوفت سوار ہونے لگی۔ اور یہی کشمکش ذہن پر طاری ہوگئی کہ آخر اب کیا کرنا چائیے؟ وہ اسٹاپ پر کھڑی انہی سوچوں میں گم  تھی کہ اچانک ہی ایک گاڑی قریب آکر رکی۔ ثناء کی سانسیں ایک دم رُک سی گئیں….. کہ کہیں اسے کوئی اغوا کرنے تو نہیں…..؟ پریشانی کے عالم میں جیسے ہی اس نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو اسکی وین سامنے کھڑی تھی۔ نہ جانے یہ سب کیا ہورہا تھا ثناء کو اب تک معاملہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ بہرحال اس نے جھٹ سے وین کا دروازہ کھولا اور بیٹھ گئی۔ جوں ہی اُس نے اپنی کلائی میں موجود گھڑی میں ٹائم دیکھا تو اس میں پورے 8 بج رہے تھے۔ یقین نہ آنے پر بیگ سے فوراً موبائل نکال کر ٹائم دیکھا تو اُس میں بھی 8 بج رہے تھے۔ اب ثناء نے تسلی سے سوچا تو اُس کو سارا ماجرا سمجھ آنے لگا تھا۔ اور وہ حیرت کے سمندر میں ڈوب گئی۔ اب اسکو اندازہ ہوا کہ آنکھ کھُلتے ہی جو ٹائم اس نے دیکھا تھا اپنے ڈیجیٹل ٹائم پیس میں وہ 7:52 نہیں بلکہ 7:25 تھا۔ اور وہ سفید ہائی روف جس کو وہ پہلے اپنی وین سمجھ کر  ہاتھ کے اشارے سے روکتی رہ گئی یعنی وہ اُسکی وین تھی ہی نہیں۔ آنکھ کھُلنے سے لے کر اب تک ان ساری اُلجھنوں کی وجہ صرف ایک ہی تھی اور وہ یہ کہ آج کے پرچے کی تیاری نامکمل تھی جسے کے باعث ثناء سوتے جاگتے بے چینی کا شکار تھی اور جتنا کچھ اس نے رات بھر یاد کیا تھا اسی پریشانی میں وہ سب کچھ بھولنے لگی تھی۔ لہٰذا وہ وین میں بیٹھی جلدی جلدی کاپی کے ورق اُلٹ پَلٹ کرکے مختلف سوالوں کے یاد کیے ہوئے جوابات دہرانے میں مشغول ہوگئی۔ یونیورسٹی پہنچتے ہی وہ ڈرتے ڈرتے کمرہِ امتحان میں داخل ہوئی۔ پریشانی کے عالم میں وہ اپنا حوصلہ پہلے ہی کافی پست کرچکی تھی اور پرچہ تھا بھی خاصا مشکل۔ لہٰذا اس نے سب سے پہلے ہمت سے کام لیتے ہوئے اپنے حواس پر قابو پایا۔ اسکے بعد اپنی نشست  پر بیٹھ کر دو گھونٹ پانی کے اتارے اور گہرا سانس لیا اگلے پانچ منٹ بعد پرچے سب کے ہاتھوں میں آگئے۔ جس کے بعد سب ایک دوسرے کو خاصے پریشان دکھائی دیئے۔ لیکن اُنہی میں کچھ ایسے بھی تھے جو اطمینان کے ساتھ اپنا پرچہ حل کرنے لگے۔ دو اساتذہ بھی کمرہِ امتحان میں موجود تھے جو چوکنّا نظروں سے ہر ایک کو دیکھ رہے تھے، خیر جیسے تیسے کرکے ڈھائی گھنٹے کا وقت اپنے اختتام کو پہنچا۔ ثناء نے اپنے پرچہ ٹیچر کے حوالے کیا اور کلاس سے باہر چلی گئی۔ آج ثناء کو بہت شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا۔ اب اسکو یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ گویا اس نے دانستہ فیل ہونے کی کوشش کی ہے کیوں کہ آج سے پہلے جب وقت اُسکے ہاتھ میں تھا تو اس نے اسکو اتنا اہم نہ سمجھا بلکہ اسکو لاپرواہی کے ساتھ بے راہ روی میں گزار دیا۔ اُس نے پرچہ دینے سے ایک روز پہلے ہی اُسکی تیاری کو سنجیدہ لیا تھا۔ ایک رات میں اتنا سب کچھ یاد کرنے سے اس کے ذہن میں کچھ بھی درست طور پر نہ بیٹھ سکا، نہ ہی پوری تیاری ہوسکی۔ اسی پریشانی میں ٹھیک سے نیند نہ آئی اور نہ ہی صبح ناشتہ کرنے کی مہلت ملی۔ جبکہ اچھا پرچہ دینے کے لئے ان چیزوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ لیکن اب س قدر سوچنے اور افسوس کرنے کا کچھ فائدہ نہ تھا۔ کیوں کہ وقت انسان کی زندگی میں گزرنے کے بعد دوبارہ پھر ہاتھ نہیں آیا کرتا۔

نیوز پاکستان

Exclusive Information 24/7