لاہور(ڈیسک)لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش سے جل تھل ہوگیا جبکہ مختلف حادثات و واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
موسم کے کروٹ بدلتے ہی گرمی کا زور بھی ٹوٹ گیا تاہم شدید بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور پانی کی نکاسی نہ ہونے سے متعدد شاہراہوں پر پانی جمع ہوگیا جس سے ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے نشیبی علاقوں میں بارش کے پانی کی جلد نکاسی کا حکم دیا ہے۔ ایم ڈی واسا کے مطابق لاہور میں 147 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
بارش اور تیز ہوا سے لیسکو کا ڈسٹری بیوشن سسٹم بھی متاثر ہوا اور 42 سے زائد فیڈرز ٹرپ کرگئے جس سے لاہور کے بیشترعلاقوں کی بجلی بند ہوگئی۔
لاہور میں ڈھولنوال کے قریب کرنٹ لگنے سے بچہ جاں بحق ہوگیا۔ 10 سالہ حسین دلاور کھمبے کے قریب سے گزر تھا کہ کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
دوسری جانب چکوال اور گردونواح میں 16گھنٹے سے جاری بارش نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں مکانات گرنے سے متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
سب سے افسوس ناک واقعہ لکھوال گاؤں میں پیش آیا مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے جن میں 3 بہنیں اور ایک بھائی شامل ہے۔
ادھر پنجند پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور زمیندارہ بند ٹوٹ گیا جس سے متعدد دیہات زیرآب آگئے اور کپاس، مونگی، چاول اور تل کی فصلیں تباہ ہوگئیں۔
دریائے سندھ میں بھکر کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے اور ریسکیو نے دریا کنارے گھروں کو خالی کرنے کے اعلان شروع کردیے۔