You are currently viewing پاکستان نے سب سے پہلے آزربائیجان کی خودمختار حیثیت کو تسلیم کیا،وائس ریکٹر باکو انجینئرنگ یونیورسٹی آزربائیجان

پاکستان نے سب سے پہلے آزربائیجان کی خودمختار حیثیت کو تسلیم کیا،وائس ریکٹر باکو انجینئرنگ یونیورسٹی آزربائیجان

کراچی (ڈیسک)باکو انجینئرنگ یونیورسٹی آزربائیجان کےوائس ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزہ گھا اوروجوف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آزربائیجان کی ریاستوں کو بین الاقوامی سطح پراپنے ثقافتی، معاشی اور دوطرفہ دلچسپی کے امور کے فروغ دینے کے لیے تعاون کے دائرہ کو وسعت دینی چاہیئے  ۔

سرسیدیونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی شعبہ ریاضی نے آزربائیجان کی باکو (Baku) انجینئرنگ یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے تعاون سے فرنٹیئرز اِن میتھمیٹکس Frontiers in Mathematicsکے موضوع پر ایک ای سیمینار کا انعقاد کیا جس میں ریاضی کے مختلف موضوعات پرکی گئی تحقیقی سرگرمیوں اور کاوشوں کو اجاگر کیا گیا ۔

خیرمقدمی کلمات اداکرتے ہوئے باکو انجینئرنگ یونیورسٹی ، آزربائیجان کے وائس ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزہ گھا اوروجوفProf Dr Hamzagha Orujov نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے آزربائیجان کی خودمختار حیثیت کو تسلیم کیا ۔ کاراباخ Karabakh تنازعے پر حکومتِ پاکستان کے موقف نے آزربائیجان کی قوم کے دل جیت لیے ۔

انہوں نے سائنس او رریسرچ کے میدان میں دونوں جامعات کے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آزربائیجان کی ریاستوں کو بین الاقوامی سطح پراپنے ثقافتی، معاشی اور دوطرفہ دلچسپی کے امور کے فروغ دینے کے لیے تعاون کے دائرہ کو وسعت دینی چاہءئے ۔

اس سیمینار کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آزربائیجان کی باکو انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزہ گھا اوروجوفProf Dr Hamzagha Orujov نے کہا کہ ریاضی کے علاوہ دونوں جامعات کو تعلیم کے دیگر شعبوں میں بھی مشترکہ کاوشیں کرنی چاہءءں اور تعاون کو فرغ دینا چاہئے ۔ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے دونوں جامعات کا باہمی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

سیمینار کے کامیاب انعقاد پر آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان، ریسرچ اسکالرز و دیگر متعلقہ شخصیات اور اداروں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ دونوں جامعات کے شعبہ ریاضی کی جانب سے ریاضی کی مختلف جہتوں کی دریافت کے حوالے سے منعقدہ یہ ای سیمینارایک موثر فورم ہے اور انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے تعلیمی شعبوں میں اپلائیڈ سائنسز جیسے ریاضی، ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ریاضی کی مختلف جہتوں کی دریافت، اس کے اطلاق اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے آج کی گفتگو، تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگی ۔

انھوں نے کہا کہ معیاری تعلیم دینے کے حوالے سے سرسید یونیورسٹی ایک ممتاز مقام رکھتی ہے اور انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے طور پر پاکستان میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے ۔ ہم اکیڈمیا اور صنعت کے مابین اشتراک اور پارٹنرشپ کے ذریعے قومی، سماجی اور معاشی ترقی و بہتری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ۔ ہماری توجہ کا مرکزکارپوریٹ ذمہ داری کے گہرے شعور کے ساتھ جدید فکر، نئے آئیڈیاز، تحقیق اور تجارتی بنیادوں پر آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے پر ہے ۔ سرسید یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں اور وہاں اپنے تحقیقی مقالے پڑھتے ہیں جن کو بے حد پزیرائی ملتی ہے ۔ پارٹنر شپ کے لئے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے حوالے سے آج کا سیمینار معیاری تعلیم اور تحقیق کے مقصد کے حصول کے لیے ایک موزوں نیٹ ورک ہے ۔

سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ کرونا کے بعد کی صورتحا ل نے مختلف عالمی جامعات کے ساتھ تعاون اور اشتراک کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے تاکہ کرونا کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کا حل نکالا جاسکے ۔ ریاضی داں اور ریسرچرز مل کر معاشرے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کوششیں کر سکتے ہیں ۔ تحقیق اور پبلیکیشنزکے میدان میں دونوں جامعات کا تعاون یونہی برقرار رہنا چاہئے تاہم دیگر متعدد ایسے شعبے ہیں جہاں سے مختلف چیزیں دریافت ہوسکتی ہیں ۔ ریاضی کے علاوہ ہم جامعات کے دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے خواہاں ہیں ۔ دونوں جامعات کا مشترکہ ایجنڈا یہی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے ایسی شخصیات کی تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے جو مختلف میدانوں میں دنیا کی رہنمائی کر سکیں ۔ ۔

بعد ازاں آزربائیجان کی باکو انجینئرنگ یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے پروفیسر ڈاکٹر Rakib Efendiev اور سرسید یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے پروفیسر ڈاکٹر راشد کمال انصاری نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کئے ۔ پروگرام کی آرگنائزر، سرسید یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کی انجیلا رحیم نے نطامت کے فراءض بخوبی انجام دیے جب کہ پروگرام کی کوآرڈینیٹر Suhela Bahlulzade تھیں جوآزر بائیجان باکو انجینئرنگ یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی سے تعلق رکھتی ہیں ۔

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.