You are currently viewing وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی دفاتر اسلام آباد منتقلی کی اطلاعات پر انجمن اساتذہ کو تشویش

وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی دفاتر اسلام آباد منتقلی کی اطلاعات پر انجمن اساتذہ کو تشویش

کراچی (نیوز ڈیسک) انجمن اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی دفاتر کو اسلام آباد منتقل کرنے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انجمن اساتذہ نے بیان میں وفاقی وزارت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی شہر سے اردو یونیورسٹی کے انتظامی دفاتر کی منتقلی سے باز رہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں نگراں حکومت نے اپنی آئینی زمہ داری مکمل کرلی ہے۔ ملک میں انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور نئی آئینی عوامی حکومت چند ہفتوں میں ذمہ داریاں سنھبال لے گی۔
نگراں حکومت کا اپنے دور کے انتہائی آخری ایام میں کراچی کے قدیم تعلیمی ادارے کے انتظامی دفاتر کو اسلام آباد منتقل کرنے کی کوشش کرنا، ناقابل فہم ہے۔ 2002 میں کراچی کی قدیم تعلیمی درسگاہ وفاقی اردو کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا۔
اردو یونیورسٹی کراچی میں اردو زبان بولنے والی شہریوں کے لیے مادر علمی کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ یونیورسٹی کراچی میں وفاق کی علامت بھی ہے۔ کراچی شہر سے یونیورسٹی کی منتقلی کی مخالفت کی جائے گی۔
انجمن اساتذہ نے اپنے بیان میں چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی زبان میں اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے قائم کی جانے والی یونیورسٹی کے بحران کا نوٹس لیں۔ نگراں حکومت یورسٹی کے مالی اور انتظامی بحران کا حل تلاش کرنے کے بجائے یونیورسٹی کو نئے بحران میں مبتلا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
یونیورسٹی میں اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہوں اور ہاؤس سیلنگ کی عدم ادائیگی کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کو پینشن اور بقایاجات کی عدم ادائیگی جیسے بڑے مسائل کا سا منا ہے۔ یونیورسٹی میں میڈیکل کی سہولت بند ہوچکی ہے اور کسی بھی قسم کے تحقیقی، تعمیری یا ترقیاتی فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن، وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور چانسلر آفس کے درمیان اردو یونیورسٹی کے مسئلے پر ہم آہنگی موجود نہیں ہے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اردو یونیورسٹی کے لیے منظور ہونے والے نیا قانون یونیورسٹی کے چانسلر اور صدر پاکستان کی حتمی منظوری حاصل نہ کرسکا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن یونیورسٹی کو ضروری مالی اور پیشہ ورانہ معاونت اور رہنمائی فراہم کرنے میں ناکام ہوا ہے اور یونیورسٹی میں انتظامی ابتری کی بڑی وجہ کمیشن کی جانب سے عدم دلچسپی ہے۔
اس سے قبل معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد کی جانب سے تیار کردہ آئینی ترامیم کا مسودہ ڈاکٹر عارف علوی کے دوستوں اور مشیروں کے منفی کردار کی وجہ سے ناکام ہوگیا تھا۔ ڈاکٹر عارف علوی گذشتہ چھ سال میں یونیورسٹی کو مستقل وائس چانسلر فراہم کرنے میں ناکام رہے اور ان کے دور میں 8 سے زائد قائم مقام وائس چانسلر یونیورسٹی میں موجود رہے۔
انجمن اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی میں انتظامی اور مالی بحران کے خاتمے کے لیے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے، انتظامی نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے تجربہ کار اور اچھی شہرت کے حامل انتظٓامی افسران کا تقرر کیا جائے، بھرپور انتظامی تجربے کی حامل علمی شخصیت کو وائس چانسلر کے عہدے پر فائز کیا جائے اور قومی زبان کی ترقی کے لیے قائم ہونے والے ادارے کو خصوصی گرانٹ فراہم کی جائے۔ یونیورسٹی کا مکمل مالی اور تعلیمی آڈٹ کروایا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

, ,