You are currently viewing نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کاانعقاد،11 انکوائریوں،2انوسٹی گیشن کی منظوری

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کاانعقاد،11 انکوائریوں،2انوسٹی گیشن کی منظوری

اسلام آباد(ڈیسک)قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے11 انکوائریوں اور 2انوسٹی گیشن کی منظوری دے دی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں ظاہر شاہ، ڈپٹی چئیرمین نیب،سید اصغر حیدر،پراسیکوٹر جنرل اکانٹبلیٹی نیب،حسنین احمد، ڈائریکٹر جنرل نیب ہیڈ کوارٹرز،عرفان نعیم منگی،ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی،مسعود عالم خان،ڈی جی آپریشنزنیب اورنیب کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ہوتا۔ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے جو قانون کے مطابق ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کر نے پر سختی سے یقین رکھتا ہے۔نیب کی تمام انکوائریز اور انوسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی جاتی ہیں جوکہ حتمی نہیں ہوتیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعدمزید تحقیقات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تاکہ انصاف کے تقاضوں کوقانون کے مطابق پورا کیا جائے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں 11 انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں میسرز اے سی ای گروپ(اے سی ای مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ)، اے سی ای بلڈرز پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر،یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشنز کی انتظامیہ،پنجاب کوآپریٹو بورڈ آف لیکویڈ یشن کے افسران،اہلکاران اور دیگر، انجم پرویز سابق سینئر جنرل منیجر پاکستان ریلویز اور دیگر،وزرات ہاسنگ اور ورکس کے افسران،اہلکاران،اسٹیٹ آفس اور دیگر،شوکت مروت گروپ آف کمپنیز کے مالکان، سپانسرز،محکمہ جنگلات ہری پور کے افسران،اہلکاران اور دیگر،جاوید میمن،چیف انجینئر محکمہ آبپاشی لاڑکانہ اور دیگر،پروفیسر غلام اصغر چنا وائس چانسلر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ اور دیگر، انجینئر سردار علی شاہ،پراجیکٹ ڈائریکٹر ر ائیٹ بینک آٹ فال ڈرین حیدر آباد سرکل اور دیگر اورپریتم داس،سپرنٹنڈنگ انجینئر،محکمہ آبپاشی،گورنمنٹ آف سندھ،، علی محمد کنٹریکٹر، اے ایم بی اینڈ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈاور دیگرکے خلاف انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ قومی احتساب بیورو کے ا یگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں 02 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں غلام حیدر جمالی،سابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کراچی اور دیگر اور ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت ڈی آئی خان کے افسران،اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی۔نیب کے ا یگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں آدم خان آٹو موبائلز پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگرکے خلاف شکایت آئی جی خیبر پختونخواہ کو قانون کے مطابق کاروائی کے لئے بھجوانے کی منظوری دی گئی۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں سی ڈی اے کے افسران،اہلکاران اور دیگر اورمحمد عمر ورک سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس کے خلاف انکوائریز قانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستا ن ہے۔ نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی مچھلیوں کے خلاف میگا کرپشن کے مقدمات خصوصامنی لانڈرنگ، جعلی اکانٹس، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہاسنگ سوسائٹیزاورمضاربہ سکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ4 سال سے زائد عرصہ کے دوران معزز احتساب عدالتوں نے نیب کی موثر پیروی کی بدولت 1405ملزمان کو نہ صرف سزا سنائی بلکہ گزشتہ 4 سالوں سے زائد عرصہ میں 584 ارب روپے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کئے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادادرہ ہے۔انہو ں نے کہا کہ نیب ہمیشہ آئین اور قانون کیمطابق اپنے فرائض سرانجام دینے پر یقین رکھتا ہے۔ اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے۔اس کے علاوہ نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چئیرمین ہے۔نیب دنیا کا واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے انسداد بد عنوانی کے لیئے ایم او یو پر دستخط کئے جو کہ نیب کے لئے اعزاز کی بات ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں جن میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل،ورلڈ اکنامک فورم،گلوبل پیس کنیڈا،پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے سراہا ہے جبکہ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59فیصد افراد نے نیب پر اعتماد کا اظہار کیا۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ تما م شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریز اور انوسٹی گیشنز کو ٹھوس شواہدکی بنیاد پر قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے نیب کے انوسٹی گیشن آفیسرز اورپراسیکوٹرز کو ہدایت کی کہ وہ پوری تیاری کے ساتھ معزز عدالتوں میں نیب مقدمات کی ٹھوس شواہدکی بنیاد پر موثر پیروی کریں جہاں قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔