You are currently viewing نصیب

نصیب

تحریر اثناءخان

ایک نو جوان  جو عقل و شعور اور تعلیم کی دولت سے آ راستہ ہے ایک چھوٹی بہن ، چھوٹے بھائی اور والد ین سمیت یہ گھرانہ کل 5 لو گو ں پر مشتمل ہے ۔ روحا ن کا اے سی سی اے کا آخری سا ل چل رہا تھا ۔ چھو ٹی بہن کا یو نیورسٹی کا پہلا سال تھا ۔ شکل وصورت کے اختیا ر سے وہ بھی انتہا ئی خو بصورت لڑ کی تھی ۔ اور چھو ٹا بھا ئی انٹر میں تھا ۔ روحان کے والد کا اپنا  فرنیچر کا کا روبا ر تھا ان تینوں بچوں کو بچپن سے ہی بہت اچھی تعلیم اور تر بیت ملی تھی ۔

روحان شروع سے ہی اپنے والدین کا سمجھ دار اور ذمہ دار بیٹا تھا ۔ صاف رنگت لمبا قداور بڑی آنکھیں اُسکی شخصیت  میں مزید نکھار پیداکر دیتی تھیں روحان اپنے والدین ، نا نی ، دادی ، دوستوں اور چھوٹے بہن بھائیوں کا حق اُنکی جگہ درست طور پر اداکر تا ۔ کسی ایک کو بھی روحان سے کسی قسم کی کو ئی شکا یت نہ تھی ۔ وہ جس آفس میں نو کری کرتا تھا وہا ں کے نئے لو گوں کے ساتھ بھی کم عر صے میں ہی اُسکی خاصی  اچھی سب سے با ت چیت ہو گئی تھی۔  یوں محسوس ہو تا تھا گو یا  وہ  بچپن سے روحان کو جانتے ہو ں۔ روحان کی والدہ اب اسکی شادی کے لئے فکر مند تھیں ۔ روحان اپنی والدہ کی پسند سے ہی شادی کر نے کا قائل تھا۔ یو ں تواُسکے آفس اور یو نیورسٹی میں  بھی کئی لڑکیا ں تھیں لیکن کیوں کہ وہ کچھ مختلف سوچ وفکر کا تھا لہذا وہ اپنے سامنے آنے والی ہر لڑکی کو عام لڑ کوں کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا ۔ اور یہی اسکی بُردبا ری اور شرافت کا ثبوت ہے ۔ روحان کی والدہ نےمیسز شاہ زیب سے روحان کے حساب سے کوئی اچھی لڑکی دکھانے کو کہہ رکھاتھا ۔ وہ ایک سمجھ دار خاتو ن تھیں ۔ انہوں نے اپنے دور پر ے کے رشتہ دار کی ایک خوبصورت ، خوش مزاج اور تعلیم یا فتہ بیٹی کا حوالہ دیا جسکا نام”عنایا “تھا۔

ایک روز جب روحان کی والدہ عنا یا کو دیکھنے گئیں تو انہیں یقین ہو اکہ وہ  واقعی انتہائی خوبصورت اور حسین لڑکی ہے۔ عنایا کی والدہ سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اُنکی ایک اور چھوٹی بیٹی ہے جو نویں جماعت میں پڑھتی ہے ۔روحان کی والدہ اُن سے مل کر بہت خوش ہو ئیں اور مطمئن ہو کر گھر لو ٹیں  ۔ایک روز بعد با ت نکلنے پر میسز شا ہ زیب نے روحان اور اُسکی والدہ کو بتا یا کہ عنایا سے بڑی اُسکی ایک اوربہن ہے جسکا نا م”اَرسَلا“ہے۔ دوسال پہلے اَرسَلا کا نکاح ایک متوسط گھر انے  میں ہوا تھا ۔ اَرسَلا اپنے کر دار اور اچھے اخلا ق میں اپنی مثال آپ تھی ۔ لیکن اُسکے ساتھ پیش آنے والے حادثے نے اُس سے سب کچھ چھین لیا ۔ اَرسَلا پچھلے ایک سال سے تکلیف اور پر یشا نی اُٹھارہی ہے ایک روز یو نیورسٹی جاتے ہو ئے دو موٹر سا  ئیکل سواروں نے اُسکے چہرے  پر تیزاب ڈال دیا جسکے با عث اُسکے چہر ے کی با ئیں جا نب خاصی جُھلس چکی تھی ۔ جسکے با عث لڑکے والوں نے فو ری اُس سے نکا ح ختم کر دیا تھا ، اُسکی  سر جر ی بھی کرائی گئی  لیکن چہر ہ مکمل طو ر پر ٹھیک نہ ہو سکا ۔ اُسکی والد ہ نے بھی اب اُسکی طر ف سے اپنا  دل سخت کر لیا ہے  وہ یہ بات جانتی ہیں کہ اب اُسکی شادی کبھی نہیں ہو سکے گی لہذا وہ اب اپنی دوسر ی بیٹی کی شادی کر نے کا ارادہ  رکھتی ہیں اور  وہ یہ با ت ہر نئے مہمان کے سامنے ظاہر نہیں کر نا چا ہتی ہیں کہ اَرسَلا  انکی بڑی بیٹی ہے  اُنہیں یہ خو ف دن رات ستا تا ہے کہ اگر کسی اجنبی لو گوں نے اَرسَلا کو دیکھ لیا تو وہ کبھی پلٹ کر عنا یا کے لئے بھی رشتہ پکّا نہیں کر یں گے اَرسَلا کی یہ ددرد ناک کہا نی سُن کر روحان اُسکے احساسات ، جذبا ت اور اُسکی تکلیف محسو س کر سکتا تھا ۔

لہذا روحان نے اپنی والدہ کو اِس با ت پر قائل کیا کہ وہ اَرسَلا کے لئے اُسکی والدہ سے رشتے کی بات کریں ۔ وہ اس   سے ایک با رملنا چاہتا تھا اور اُسکو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر خو شگو ارا حساس دلانا چاہتاتھا ۔ کیوں کہ اُسکی نظر میں ظاہری خوبصورتی ہی اصل خو بصو رتی نہیں تھی ۔ لیکن ہر کو ئی ا س نظر یے سے نہیں سوچتا لہذا اسکا یہ ما ننا تھا  کہ عنا یا کے پا س حسن کی کمی نہیں اُسکو اور بھی لوگ بہت خو شی خوشی قبول کر لیں گے  لیکن اَرسَلا   کو نئی  زندگی دینے والا شاید ہی کو ئی ہو ۔ روحان نے اپنے نیک مقصد کو حقیقت کا روپ دیا اُسکے اس فیصلے سے با قی تما م  گھر والے بھی خوش تھے اور روحان کے گھر والوں نے بھی اَرسَلا کو دل سے قبول کیا ۔ اور اَرسَلا نے بھی ایک اچھی بَہُو ہو نے کا ثبوت دیا اور تما م تر خاندان والوں کے دل میں اپنی خوش مز ا جی اور خد مت گزاری سے جگہ بنائی اور روحان کی زندگی کو مزید خوبصورت بنادیا۔

نیوز پاکستان

Exclusive Information 24/7