You are currently viewing میڈیا پر غیر مصدقہ اور جھوٹی خبریں چلنے پر چیف جسٹس کا اظہار ناراضی

میڈیا پر غیر مصدقہ اور جھوٹی خبریں چلنے پر چیف جسٹس کا اظہار ناراضی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے میڈیا پر غیر مصدقہ اور جھوٹی خبریں چلنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے 8 فروری کے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ریمارکس میں کہا کہ ہفتے کو ایک مرکزی ٹی وی چینل پر خبر چلی کہ ججزکا اجلاس ہوگیا ہے، میرا ساتھی ججزکے ساتھ کوئی اجلاس نہیں ہوا لیکن یہاں تو میڈیا آزاد ہے، میرے ساتھی جج مجھ سے پوچھ رہے ہیں بتائیں پھر اجلاس میں کیا ہوا؟ ججز آکر پریس کانفرنس کرکے وضاحتیں تو نہیں دے سکتے۔
چیف جسٹس نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خبر چلانے سے پہلے تصدیق تو کرلیا کریں، رجسٹرار کو کال کرکے پوچھ لیں، یہاں جینوئن صحافی نوکری سے فارغ ہورہے ہیں، اب یہ میڈیا چلائے گا نہیں کہ بریگیڈئیر کا کورٹ مارشل ہوا تھا، ہر چیز پر بس ضمیر بیچ دو۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ گھربیٹھ کر کچھ بھی چلا دیتے ہیں، سچ بولیں اور سچ بتائیں لیکن نہیں، یہاں میڈیا کو بس اپنی ریٹنگ کی پڑی ہے، اب ہر کوئی آکر کھڑا ہوجائے کہ درخواست خارج کیوں کردی، میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلا کر ریٹنگ لو۔
اس دوران صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ ہفتے کو تو یہ خبر بھی چل گئی تھی کہ بینچ بن گیا اور سماعت شروع ہوگئی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میڈیا سے غلطی بھی ہوسکتی ہے لیکن وضاحت بھی تو چلائیں کہ خبر غلط چلی، اگرمیڈیا 10 جھوٹی خبریں چلائے گا تو لوگ ان کی خبروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے۔

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.