You are currently viewing میاں صاحب جمہوریت کیخلاف ہونیوالی ہر سازش میں شامل رہے ہیں ،  بلاول بھٹو

میاں صاحب جمہوریت کیخلاف ہونیوالی ہر سازش میں شامل رہے ہیں ، بلاول بھٹو

لاہور(ڈیسک): پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگرمیاں صاحب کی 30سال کی سیاسی تاریخ دیکھ لی جائے تو وہ جمہوریت کے خلاف ہونے والی ہر سازش میں شامل رہے ہیں ۔

سینئر صحافی منو بھائی کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین  پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں نواز شریف کی 30سال کی سیاسی تاریخ دیکھ لیں تو میری نظر میں ان کے لئے دلیل دینا تھوڑا مشکل ہے ۔ اس عرصے میں جمہوریت کے خلاف جتنی بھی سازشیں ہوئی میاں صاحب اس میں شامل رہے ہیں ۔ آج دیکھ لیں پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے جو سیاستدان ہیں ان کے کیسز پر جس طرح عملدرآمد کیا جارہا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔  انہوں  نے کہا پیپلز پارٹی کے وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل رکھا گیا انہیں بار بار نیب کے سامنے پیش ہونا پڑا ۔ ہم کہتے ہیں اگر الزام ہیں تو ہم ان کا سامنا کریں گے لیکن شرجیل میمن ، نواز شریف اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے کیس میں جو تفریق برتی گئی وہ سب نے دیکھی ہے ۔ ہمارا واضح موقف ہے کہ (ن ) لیگ ، پیپلز پارٹی بلکہ پی ٹی آئی کے کیسز میں بھی فرق نہیں ہونا چاہیے اور قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہیے ۔ بلاول بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا میں بہت احترام کرتا ہوں لیکن وہ نواز شریف کے دفاع میں زیادہ دور چلے گئے ہیں ، وہ نواز شریف کے مسئلے کو چھوڑیں اور اپنی پارٹی کو دیکھیں ۔ انہوں نے ہم ایم ڈبلیو ایم کے رہنما ناصر شیرازی کو اٹھائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں  کہ ناصر شیرازی کو تلاش کیاجائے اس طرح اغواء نہیں ہونا چاہیے بلکہ اگر کسی پر الزام ہے تو اسے عدالتوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے ۔ (ن) لیگ والے جمہوریت کی بات کرتے ہیں توپنجاب میں بھی جمہوریت ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کو (ن) لیگ نے خو دمتنازعہ بنایا ۔کراچی سے فاٹا تک اس پر اعتراضات اٹھائے گئے لیکن حکومت کی طرف سے مطمئن کرنے کے لئے ایک قدم نہیں اٹھایا گیا۔ چیئر مین پی پی پی نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا تھاکہ مردم شماری کے نتائج کو صوبوں کے ساتھ شیئر کیا جائے لیکن یہ نہیں کیا گیا ۔ سندھ حکومت نے سینیٹ میں معاملہ اٹھایا تو کہا گیا کہ ایک فیصد بلاک کو دوبارہ چیک کیا جائے گا ۔ حلقہ بندیوں کے معاملے میں ہونے والی تاخیر کی ذمہ دار بھی (ن) لیگ ہے ۔ مشترکہ مفادات کونسل میں ہم نے تحفظات اٹھائے ہیں اور ہمیں کہا گیا کہ ایک فیصد بلاک کو چیک کر رہے ہیں ،ہم الیکشن کے بعد بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے ۔ ہمار ے دورمیں بھی کہا گیا کہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی ، نگراں حکومت کی مدت تین سال بڑھ جائے گی لیکن پھر سب نے دیکھا کہ نہ صرف بروقت انتخابات ہوئے بلکہ ایک سویلین حکومت سے دوسری سویلین حکومت کو پر امن انتقال اقتدار بھی ہوا ۔

 چیئر مین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یقیناًکچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں لیکن ان کی خواہش پوری نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ (ن ) لیگ پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہے لیکن پھر بھی کورم پورا نہیں رکھ سکتی ۔ بلاول نے کہا کہ  پیپلز پارٹی اپنے نظریے پر کھڑی ہے ، آصف علی زرداری نے دورہ لاہور کے موقع پر پارٹی کارکنوں ، رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقات کی ۔ جہاں تک ذوالفقار کھوسہ سے ملاقات کا تعلق ہے تو اگر کوئی شخصیت (ن) لیگ سے مایوس ہے تو اس سے ملاقات میں کوئی حرج نہیں ۔انہوں نے نواز شریف سے کسی ملاقات کے امکان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ انہوں نے رانا آفتاب کے پیپلز پارٹی کو خیر باد کہنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ میں انفرادی کسی کی بات نہیں کروں گا لیکن سچ سامنے آ جائے گا ۔ جب محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو اس وقت بھی بہت سے انکلز نے ہمیں چھوڑا تھا ،ا ب بھی کچھ انکلز چھوڑ رہے ہیں لیکن کارکن او رجیالے میرے ساتھ ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ خوش رہتا ہوں ۔

(این این آئی)

نیوز پاکستان

Exclusive Information 24/7