You are currently viewing قابلیت ڈگریوں کی محتاج نہیں ہوتی

قابلیت ڈگریوں کی محتاج نہیں ہوتی

تحریر :شاداب اشرف
خواب حقیقت
ابھی چند لمحوں پہلے مکمل خاموشی تھی اتنا سناٹاکہ مجھے گھڑی کی ٹک ٹک با آسانی سنائی دے رہی تھی۔ ٹک کی ہر آواز کے ساتھ مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میری آنکھوں میں ایک آنسو جمع ہوگیا ہو اور ان آنسوؤں کو سنبھالنے کی مجھے شعوری کوشش کرنی پڑ رہی تھی۔ پھر کمرے کے دونوں درواذوں سے گویا لڑکیاں سیلاب کی طرح امڈ آئیں اور ہر طرف باتوں اور یادوں نے گہماگہمی مچادی۔
میری سہیلیوں نے مجھے گھیر کر میرے دونوں ہاتھوں پر مہندی لگانی شروع کردی۔ مہندی کا رنگ اور اسکی خوشبو مجھے بہت اچھی لگتی تھی مگر اس دن صرف مجھے اسکی ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی جیسے جیسے میرے ہاتھوں پر مہندی سے نقش و نگار بن رہے تھے ویسے ویسے مجھے اپنا وجود ٹھنڈا ہوتا محسوس ہورہا تھا .جب کوئی خواب آپ کی زندگی کا حصہ ہو اور چکنا چور ہوجائےتو انسان اسی طرح لرز جاتا ہے ۔ میرے خواب بھی گھڑی کی ہر ٹک ٹک کے ساتھ ساتھ بکھر رہے تھے۔
جاب تو پیسے کمانے کے لئے ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو امیر شوہر کے بڑے گھر میں راج کرنے کو ملے تو جاب کس کو سوجھتی ہے ۔ مائرہ نے بھی کہا تھا اور میں خوب ہنسی تھی۔
جاب اپنے شوق کے لیے بھی تو ہوسکتی ہے۔ اپنی قابلیت کو نکھارنے کی کوشش ہر شخص کو کرنی چاہئے ۔ جب ہر لڑکی کا الگ وجود ہوسکتا ہے تو دنیا میں الگ پہچان کیوں نہیں ہوسکتی؟ کم از کم میں تو ایسی زندگی کی آرزو نہیں رکھتی کہ کوئی جاننے والا ملے تو کہے فلاں کی مسز یا فلاں کی ماں جارہی ہے۔ میں سارہ خان ہوں اور سارہ خان کے نام کی پہچان چاہتی ہوں،میں روانی سے بولی تھی۔
کالج کی سب سے اچھی مقررہ، شاعرہ ،پینٹر، سوشل ورکر اورجینیس طالبہ سارہ خان سے نہیں جیت سکتی۔ مائرہ نے مذاق میں کانوں کو ہاتھ لگائے تھے۔
اب میرے بائیں ہاتھ کی مہندی کو دیکھتی مائرہ کو شاید یاد بھی نہ ہو کہ اسکی میری کبھی یہ گفتگو ہوئی تھی۔ اس موضوع پر گفتگو تو ہم اکثر ہی کرتے تھے کیونکہ مجھ میں کچھ کر دکھانے کی قابلیت، حوصلہ اور آگے بڑھنے کی خواہش تھی۔ بقول ماما کے میں ہر چیز میں ٹانگ اڑاتی تھی اور بقول ٹیچرز میں ہر چیز کا ذوق رکھتی تھی۔ پڑھائی میں تو یہ حال تھا کہ ٹیچرز اور ہم جماعت جیسے بھول ہی گئی تھیں کہ میرے علاوہ کوئی پہلی پوزیشن بھی لے سکتا ہے،کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میں بارہویں سے آگے پڑھ نہیں سکوں گی۔
بابا کچھ عرصے سے بیمار تھے اور رفتہ رفتہ انکی بیماری شدید ہوتی گئی پھر ایسا وقت آیا جب انہیں بستر سے اٹھنے میں بھی دقت ہوتی تھی۔ میں اس وقت ایف ایس سی کے امتحان کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ میں بہنوں   اور بھائی میں سب سے بڑی تھی، اس لیے ذمہ داری کا احساس بھی تھا پر ذمہ داری کو نبھانے کی کوئی راہ میری نظر میں نہ تھی۔ ہمارے حالات خراب نہیں ہوئے تھے پر باقاعدہ آمدنی کا ذریعہ بند ہوگیا تھا جس کے باعث مستقبل دھندلا نظر آتا تھا۔ ذمہ داریوں کا احساس مجھ سے زیارہ میرے والدین کو تھا جس سے وہ جلد سبکدوش ہونا چاہتے تھے ۔ میں شاید بھول گئی تھی کہ ان کی سب سے بڑی ذمہ داری سارہ خان ہے ۔
ایک روز میں معمول کے مطابق بابا جان کو دوائی کی تاکید کرنے آئی تو والد ین کی گفتگو نے میرے قدموں کو  دروازے پر ہی روک دیا ۔ وہ میرے لیے آئے ایک پروپوزل کو بہت سنجیدگی سے ڈسکس کررہے تھے ۔ میرے خاندان کی کم ہی لڑکیاں پڑھائی کے شوق کے ساتھ پیدا ہوئیں تھیں ۔ اس لیے ایک تکلف کی طرح پڑھ کر جلد شادی کے بندھن میں بندھ جاتی تھیں۔ میرے لیے پروپوزلز آنا کوئی حیران کن بات نہیں تھی۔ مگر میرے والدین کی سنجیدگی حیرت انگیز تھی۔ میرے والدین تو میرے خوابوں سے واقف تھے۔ انہوں نے میرے خوابوں کو سنوارنا تھا۔ میں نے تو صرف قابلیت کے زور پر ایک بنیاد رکھی تھی۔ جسکو میرے والدین نے ہی مضبوط قلعہ بنادیا تھا۔ بابا نے کبھی ماما سے کہا تھا۔
ملیحہ بیگم! بیٹی ہی باپ کا ناز ہوتی ہے۔ اپنی قابلیت کی بنا پر یہ کامیابی کی ایک سیڑھی چڑھے گی تو گویا میرے سینے پر دس میڈل لگ جائیں گے۔
بابا آج بھی وہی تھے ۔ بس ذرا کمزور سی آواز میں ما ما  سے مخاطب تھے۔
ملیحہ بیگم! بیٹی ہی باپ کی آزمائش ہوتی ہے۔ اسکی قابلیت ہی کیا ہے صرف میڑک کی بنیاد پر اتنا اچھا رشتہ مل رہا ہے تو باپ کو سینے سے بوجھ ہلکا کردینا چاہیے۔
میری زندگی کی ریل گاڑی ایک ایسی سرنگ میں سے گزررہی تھی۔ جہاں یہ پروپوزل اجالا لانے میں بہت اہمیت رکھتا تھا۔ میں جانتی تھی کہ اگر میں نے پڑھائی جاری رکھی تو شاید میرے چھوٹے بھائی اور بہنوں کو بہتر سہولتیں نہ مل سکیں۔ میرا بھائی اچھے کیریر کا مستحق تھا۔ میں جتنی بھی تعلیم حاصل کرلوں میرے والدین کی مالی مدد نہیں ہوسکتی تھی۔ مجھے ایک روز کسی کے نام کی مہندی اپنے ہاتھوں میں رچانی تھی اور وہ ڈگریاں اپنی اہمیت کے ساتھ میرے ساتھ رخصت ہوجانی تھیں۔ میرے اختیار میں تھا کہ یا تو والدین کی چھت کے نیچے انہیں پائی پائی کا حساب رکھنے کی آزمائش سے بچاؤں یا بیٹی کے بالوں میں چاندی کے تار دیکھنے کے امتحان سے دوچار کروں۔ دونوں ہی صورتوں میں میرے لیے اپنے والدین سے محبت کی آزمائش تھی۔
محبت کا تو یہ تقاضا تھا کہ اگر جسم کا کوئی حصہ بھی مانگیں تو کاٹ کردے دوں اور انہوں نے مانگ ہی تو لیا تھا۔ میرا دل، میرا دل تو روز اول سے اس خواہش کے شکنجے میں تھا۔ اسکو چھوڑناگویا دل کی دھڑکن بند کردیناتھا۔
میں بے آواز قدموں سے پلٹ کر اپنے کمرے میں آگئی۔ سامنے شیلف پر پڑی اپنی ٹرافیز اور کتابوں کو میں نے خالی خالی آنکھوں سے دیکھا۔ پرانی یادیں کسی فلم کی طرح میرے سامنے چلنے لگیں۔ مجھے سب یاد تھا کون سی ٹرافی مجھے کس چیز کے لیے ملی کن کن الفاظ میں میری ستائش ہوئی۔ سب الفاظ اور چہرے میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر شیلف سے اس کتاب کو اٹھایا جو میری ٹیچر نے مجھے دی تھی۔ میں نے پہلے صفحے پر اپنی پسندیدہ ٹیچر کے الفاظ پڑھے ۔
اپنی بہترین اسٹوڈنٹ کی علم کی بھوک مٹانے کے لیے ایک تحفہ اس امید کے ساتھ کہ وہ میرا نام روشن کرے گی۔
کبھی ان الفاظ کو پڑھ کر میری آنکھوں میں فخریہ چمک آتی تھی۔ مگر اس بار میری آنکھوں کا خالی پن پُر نہیں ہوا۔
تمہاری آنکھیں بتاتی ہیں تمہاری قسمت میں ہار نہیں ہے ۔ کسی نے میرے کان میں سرگوشی کی۔
اکثر میرا دل کرتا ہے ٹیچر کو چھوڑ کر تم سے ہی تشریح سمجھ لیا کروں۔ اس بار آواز قدرے اونچی تھی۔ شاعری بھی تم نے کرنی ہے۔ تقریریں بھی کرو ،  پینٹنگزبھی بناؤگی سارے ہی کام کرنے کی خواہش ہے تم  ایسا کرنا وقت آنے پر بارات بھی تم ہی لے جانا۔
آخری آواز ثوبیہ کی تھی اور اسکے ساتھ ہر طرف سے بے شمار آوازوں نے میرا گھیراوَ کرلیا۔ کتنی ہی دیر میں ماضی میں بھٹکتی رہی تھی۔ میرے پاس ماضی ہی تو رہ گیا تھا۔ مستقبل تو میں گنوانے کا فیصلہ کر ہی چکی تھی۔ مجھے یہ فیصلہ کرنے کے لیے میرے ضمیر کے علاوہ کسی نے مجبور نہ کیا تھا۔ جب اپنا یہ فیصلہ میں نے مما کو سنایا تو انکی آنکھوں میں شاید ندامت تھی، میرے لیے خوشی یا اپنی تربیت پر فخر ۔ میں نہیں جان سکی مگر ایک دعا میں نے ضرور دیکھ لی تھی ۔ انہوں نے نم آنکھوں سے میرا ماتھا چوما تب بھی مجھے کوئی احساس نہ ہوا ۔ ایسا لگا میرا جسم سُن ہو چکا ہے۔
مگر شادی سے ایک دن پہلے مہندی کی ٹھنڈک نے میرے سارے جذبات جگا دیے ۔ اپنی خوبیوں اور قابلیت کے باوجود میری زند گی ایک عام گھریلو خاتون جیسی ہونا تھی۔ شاید کبھی کوئی سارہ خان کے نام سے واقف نہ ہوگا ۔ میں مسز حمین سکندر اور بعد میں اپنے کسی بچے کے نام سے جانی جاوَں گی بغیر پانی کے پودا سوکھ جاتا ہے تو نگہداشت کے بغیر میرا ٹیلنٹ بھی مٹ جاےَ گا ۔ میں اپنی ساس کے مزاج سے واقف تھی اور یہ بھی جانتی تھی کہ شادی کے بعد میں کسی صورت نہ تعلیم حاصل کر سکتی ہوں نہ جاب کی خواہش کر سکتی ہوں ۔ میرے شوہر کی بہتر تنخواہ کبھی کسی کو یہ سمجھنے نہ دے گی کہ میں جاب کیوں کرنا چاہتی ہوں میری نظر میں جاب کرنا آمدنی کا ذریعہ نہیں اپنی میں کی پہچان اور خود اعتمادی حاصل کرنے کا ذریعہ تھا ۔ اپنی قابلیت اور ہنر کو گھر گھر ہستی میں برباد کرنے کے بجا ئے تخلیق کا کام کر کے سارہ خان اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کو بھی فائدہ پہنچا سکتی تھی ۔ دل میں صرف ایک شکوہ تھا کہ اگر مجھے اپنی خوبیوں کو سنوارنے کا موقع نہیں ملنا تھا تو مجھے خوبیاں دی ہی کیوں ؟ اس وقت لگا اپنے تمام ہنر کے ساتھ سارہ خان کہیں کھو گئی ۔
میں اپنی کئی خوبیوں سے واقف تھی مگر اس دن مجھے معلوم ہوا کہ میں ایک اچھی اداکارہ بھی ہوں کیونکہ تمام وقت اپنے جذبات پر قابو پائے خوشی اور سکون کی اداکاری کرتی رہی ۔
ایک بار پھر میں تھی اور گھڑی کی ٹک ٹک ۔ عروسی لباس پہنے میں اپنے نئے کمرے کو دیکھ رہی تھی۔ کہ دروازہ کھولنے کی آواز پر میں نظریں جُھکا کر اپنی چوڑیاں دیکھنے لگی ۔
اکثر اس موقعے پر کوئی شعر کہا جاتا ہے ۔مگر سننے میں آیا ہے کہ میری بیوی خود بہت اچھی شاعرہ ہے ۔ اب پہلے ہی دن کوئی شعر سنا کر اپنی نااہلی کا اظہار نہیں کرنا چاہتا۔ تم کہو تو کسی گھر یا آفس کا نقشہ بنا کر دے سکتا ہوں پر یہ شعر وشاعری وغیرہ میرے لئے مشکل ہیں ۔
حمین نے جب میرے ہاتھ میں کڑا پہنایا تو پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ مہندی کا رنگ بہت تیز چڑھا تھا۔

بہت خوبصورت  ہے شکریہ۔ مجھے کوئی مصنوئی کیفیت طاری کر نے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
صرف تعریف کافی نہیں ہے۔ مجھے بدلے میں کچھ چاہیے ۔ حمین نے بیڈ کی پچھلی دیوار کی طرف اشارہ کیا۔
امی نے وہاں ایک کیل لگوائی تھی تاکہ اپنی شادی کی تصویر وہاں لگواؤں پر میری دلی خواہش ہے کہ تم وہاں اپنی پینٹنگ لگاؤ ۔ تم اس دیوار کے لئے پینٹنگ  بناؤ گی نا؟ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
کیا اشاروں سے کام لے رہی ہو ، کچھ بولو بھی ، لگ ہی نہیں رہا کہ کالج کی بہترین مقررہ سے ہم کلام ہوں ۔
آپ کو میرے سارے مشاغل معلوم ہیں ؟ مجھے واقعی حیرت ہوئی تھی ۔
! میری امی کی خواہش تھی کہ بہت حسین لڑکی انکی بہو بنے اور میں چاہتا تھا کوئی قابل اور فرض شناس لڑکی میری زندگی میں آئے۔ اسی لیے تو شادی میں اتنی دیر ہوگئی۔ خوبصورت لڑکی مل بھی جاتی تو اس میں ہنر اور ذمہ داری نظر نہ آتی۔ میں جانتا تھا کہ میری زندگی میں ایک ذہین لڑکی کی ہی ضرورت ہے جو ایک گھر کو سنبھال او ر سنوار سکے اور اتنے لوگوں کو خوش رکھنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھاسکے۔ اسی لیے تمہارا انتخاب کیا۔ حمین خاموش ہوگئے۔
گھڑی کی ٹک ٹک ایک بار پھر میرے کانوں میں پڑی اور اس بار یوں لگا َ
جیسے وہ میرے لیے کوئی نئی دنیا کا دروازہ کھول رہی ہو۔ ایسی دنیا جہاں اپنی فہم و فراست سے گھر سنبھالنا تھا۔ اپنے شوق سے اس کو سجانا تھا اور اپنی عادت سے اس کے مکینوں کے دلوں میں جگہ بنانی تھی۔ ذمہ داری تو بہت بڑی تھی پر مجھے اپنی قابلیت پر بھروسہ تھا۔
قابلیت ڈگریوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ سرگوشی میرے دل نے کی تھی۔ جس پر میں مسکرائی اور بغیرکسی دقت کے اس نئی دنیا میں قدم رکھ دیا۔

 

نیوز پاکستان

Exclusive Information 24/7