You are currently viewing عدلیہ ترجیحی بنیادوں پر سود کے معاملےکو نمٹائے، علمائے کرام

عدلیہ ترجیحی بنیادوں پر سود کے معاملےکو نمٹائے، علمائے کرام

کراچی (ڈیسک) معروف عالم دین مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ عدلیہ ترجیحی بنیادوں پر ایک ہی ہفتے میں سود کے معاملے کو نمٹائے۔ پاکستان سے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق کراچی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ چھٹی کے دن اور رات کو بھی عدالتیں لگتی ہیں سود کے معاملے کو بھی عدالتیں دیکھیں۔ مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ عدلیہ من پسند مسائل پر رات گئے سماعت کرلیتی ہیں، کل ہی عدالت سود کے معاملے پر سماعت کرے۔ مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ سود کے خلاف سفارشات پر رتی برابر عمل نہیں ہوا، رہن شدہ اثاثوں پر ٹیکس معاف ہونا چاہیے، ٹیکس قوانین بھی اسلامی نہیں۔مفتی منیب الرحمٰن نے مزید کہا علامتی باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، حق کو منوانے کے لیے طاقت دکھانی پڑے گی۔ اس موقع پر معروف عالمِ دین مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ شریعت کا نفاذ اہم ترین ہے لیکن علما کا فتویٰ ہے کہ ملک میں شریعت کے نفاذ کے لیے مسلح جدو جہد جائز نہیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ خوشی ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء سیمینار میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاسود بینکاری کو عملی طور پر لاگو کیا جائے، مسلمانوں کے مختلف مکتبۂ فکر میں سود سے متعلق کوئی اختلاف نہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سود کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے متفقہ آواز بلند کرنی ہے، حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ سود کے خاتمے کے لیے عملی کوشش کریں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے کہا کہ سود عقلا بھی حرام ہے۔ مفتی عبدالشکور نے کہا کہ مدارس کے اکاؤنٹ کھلنے کے مسائل حل ہوں گے۔سیمینار سے مولانا ضیاء اللہ، مولانا زاہد الراشدی، مفتی پیر طیب نے بھی خطاب کیا۔