You are currently viewing سمندری طوفان سے پاکستان کے جنوب ساحلی علاقوں کو شدید خطرات، عالمی ماہر موسمیات

سمندری طوفان سے پاکستان کے جنوب ساحلی علاقوں کو شدید خطرات، عالمی ماہر موسمیات

کراچی (ڈیسک) بحیرہ عرب میں کراچی کے جنوب سے 1120 کلو میٹر دور سمندری طوفان ”بائپر جوائے“ کی شدت میں مزید اضافہ ہورہا ہے ۔
ماہرین موسمیات کے مطابق سمندری طوفان کے باعث 13 جون کی رات سے سندھ مکران کی ساحلی پٹی پر تیز ہوا کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان 12 گھنٹوں سے شمال اور شمال مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ طوفان کے مرکز کے گرد ہوا کی رفتار 130 سے 150 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کی بحیرہ عرب میں موجودگی تک سمندر میں شدید طغیانی کی کیفیت رہے گی۔
محکمہ موسمیات کا سائیکلون وارننگ سینٹر سسٹم کو مانیٹر کر رہا ہے جبکہ ماہی گیروں کو 12 جون سے سمندری طوفان کی موجودگی تک کھلے سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
دریں اثناء بین الاقوامی ماڈلز ”ہائپر جوائے“ نامی طوفان کے ٹریک کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں۔
کچھ ماڈلز طوفان کا رخ عمان اور پاکستان کے مغربی ساحلی علاقوں جبکہ کچھ اس کا رخ بھارتی گجرات اور سندھ کی ساحلی پٹی کی جانب دکھا رہے ہیں۔
عالمی ماہر موسمیات جیسن نکولس کے مطابق طوفان ”بائپر جوائے“ سے بھارتی گجرات اور پاکستان کے جنوبی ساحلی علاقوں کوخطرہ نظر آ رہا ہے۔
خیال رہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں بیشتر ساحل بحیرہ عرب سے جڑے ہوئے ہیں جن میں صوبہ سندھ کے کیپ مونز، کلفٹن ساحل، فرنچ ساحل، ہوک بے ساحل، ابراہیم حیدری، کورنگی کریک، منوڑہ، مبارک گوٹھ ساحل، نتھیا گلی ساحل، پیراڈائز ساحل، رشین ساحل، سینڈسپٹ ساحل، سی ویو، سنہرہ ساحل، ٹرٹل ساحل، تشان ساحل جبکہ صوبہ بلوچستان کے استولہ ساحل ، گوادر ساحل، مغربی گوادر ساحل، اورماڑہ ساحل شامل ہیں۔
جیسن نکولس کے مطابق عمان پر بھی سمندری طوفان کے اثرات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

نیوز پاکستان

Exclusive Information 24/7