You are currently viewing سرکاری ملازمین کے لیے نئی پنشن اسکیم لانے کی تجویز دیدی گئی

سرکاری ملازمین کے لیے نئی پنشن اسکیم لانے کی تجویز دیدی گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت کو سرکاری ملازمین کو بھارت کی طرز پر رضاکارانہ پنشن دینے کی تجویز دے دی گئی۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق یکم جولائی سے نئی رضاکارانہ پنشن اسکیم لانے کی تیاری کی جارہی ہے اور نئی اسکیم سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے تیار کی ہے۔
ذرائع کے مطابق تمام نئی سرکاری بھرتیاں رضاکارانہ پنشن اسکیم کے تحت کیے جانے کا امکان ہے تاہم پہلے سے بھرتی سرکاری ملازمین کو پنشن بجٹ سے ہی دی جائے گی البتہ وفاقی حکومت موجودہ سرکاری ملازمین کی رضامندی سے ان کو نئی اسکیم میں منتقل کرسکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ ایس ای سی پی نے سرکاری اور نجی شعبے میں نئی اسکیم کا اطلاق کرنے کی تجویز دی ہے، نجی شعبہ اس وقت ملازمین کو پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی کی سہولت فراہم کررہا ہے، ایس ای سی پی کی تجویز ہے کہ نجی شعبہ ملازمین کو صرف رضاکارانہ پنشن اسکیم دے کیونکہ پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی سے ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر مستقل آمدن کی سہولت نہیں ملتی۔
ذرائع کے مطابق اس اسکیم کے تحت ملازمت کی تبدیلی کی صورت میں بھی پنشن سہولت جاری رہے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ پنشن اسکیم کے لیے موجودہ ملازمین سے پوچھا جائے گاکہ وہ نئی اسکیم کا حصہ بنیں گے یا نہیں، اس حوالے سے فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جو ادارہ اور ملازم مل کر میچوئل فنڈ قائم کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اس اسکیم کے تحت ملازمین کی تنخواہ سے جتنی رقم کی کٹوتی کی جائے گی اتنی ہی رقم حکومت ادا کرے گی اور ملازمین کو وہ رقم لازمی طور پر انویسٹ کرکے اس کی اطلاع محکمے کو دینا ہوگی، اس اسکیم میں موجود سرکاری ملازم کی ملازمت ختم ہونے کے بعد اس کا تعلق حکومت سے ختم ہوجائے گا اور ملازم کی سرمایہ کاری سے آنے والی رقم سے اسے پنشن دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ اس وقت ملک میں 43 پنشن فنڈ کام کررہے ہیں جن میں 61 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، خیبر پختوخوا حکومت نے سب سے پہلے 2 سال قبل پنشن فنڈ میں سرمایہ کاری کی جہاں حکومتی ملازمین کے لیے 21 پنشن فنڈ کام کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت بھی ملازمین کے لیے رضاکارانہ پنشن اسکیم شروع کرنے والی ہے۔

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.