You are currently viewing حسرت

حسرت

تحریر: اثناء خان

ہاں ہم چاروں ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ ساتھ کھانا، ساتھ بیٹھنا، ساتھ چہکنا اور سونا بھی ساتھ ہی۔ ہمارایہ گھر زیادہ بڑا تو نہیں ہے جتنا کہ پہلے والا تھا لیکن کیوں کہ وہاں ہم تعداد میں بھی چار سے زائد تھے تو بڑا تو ہونا ہی تھا۔ یہاں دل لگتا تو نہیں تھا لیکن لگانا بھی پڑا۔ ظاہر ہے وہاں بولنے والے بھی کئی تھے اور سننے والے بھی۔ خیر کھانا پینا یہاں بھی وہی تھا جو وہاں کھالیا کرتے تھے۔ یہاں کبھی کبھی تنہائی سی بھی محسوس ہوتی کیوں کہ ہم چاروں ہی کے مزاج کچھ مختلف تھے۔ جن میں سے ایک کا کام تھا کھانا… باہر کی چھوٹی سی دنیا کو ہم صرف اندر اپنے پنجرے ہی میں بیٹھ کر دیکھ سکتے تھے۔ جہاں کبھی کوئی ہم چار رنگ برنگے طوطوں کو دانا پانی دینے کے لئے ہمارے پنجرے کی کھڑکی کھولتا ہم میں سے کوئی نہ کوئی موقع تلاش کرکے اُڑجانے کا خواہشمند ہوتا۔ لیکن افسوس ہم ہمیشہ اس کام میں ناکام ہی رہے۔ ایک طوطے نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا یہ ماننا تھا کہ ہوسکتا ہے پالنے والے کو اُسکی حالت دیکھ کر رحم آجائے اور وہ اسکی اُداسی دیکھ کر اسکو آزاد کردے۔ لیکن ہمارا پیارا ساتھی اسی انتظار میں دم توڑگیا۔ آج سے میں بھی بھوک ہڑتال پر ہوں۔ وہ ٹھیک ہی کہتا تھا کہ اس قیدِزندگی کا بھی کیا فائدہ ؟

نیوز پاکستان

Exclusive Information 24/7