You are currently viewing 90 دن میں انتخابات کرانے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، 2 ججز کا اختلافی نوٹ

90 دن میں انتخابات کرانے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، 2 ججز کا اختلافی نوٹ

اسلام آباد (ڈیسک) سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ میں کہنا ہے کہ از خود نوٹس نہیں بنتا، 90 دن میں انتخابات کرانے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر بینچ کے دو ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھا۔
دونوں ججز نے فیصلے پر اختلافی نوٹ میں کہا ہےکہ آرٹیکل 184/3کے تحت یہ کیس قابل سماعت نہیں، عدالت کو اپنا 184/3کا اختیار ایسے معاملات میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہےکہ انتخابات پر لاہور ہائیکورٹ فیصلہ دے چکی، سپریم کورٹ ہائیکورٹ میں زیر التوا معاملے پر ازخود نوٹس نہیں لے سکتی، پشاور اور لاہور ہائیکورٹ نے 3 دن میں انتخابات کی درخواستیں نمٹائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہرمن اللہ کے نوٹس سے اتفاق کرتے ہیں۔
اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ انتخابات پر ازخود نوٹس کی درخواستیں مسترد کرتے ہیں، اس معاملے پر از خود نوٹس بھی نہیں بنتا تھا، 90 دن میں انتخابات کرانے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

Nimra Jamali

Nimra Jamali is an emerging content writer, who is writing for News Pakistan TV for quite some time now.