You are currently viewing ترکی نے 18 سال میں ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں، صدر طیب اردوان
Turkish President Recep Tayyip Erdogan addresses a meeting of local administrators at his palace in Ankara, Turkey, Wedesday, Feb. 10, 2016. Erdogan has ratcheted up his criticism of the United States for not recognizing Syrian Kurdish forces as "terrorists," saying Washington's lack of knowledge of the groups operating in the region had led to bloodshed. Turkey considers the Kurdish Democratic Union Party, or PYD, which are affiliated with Turkey's own Kurdish rebels as a terrorist group.(Yasin Bulbul/Presidential Press Service, Pool via AP)

ترکی نے 18 سال میں ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں، صدر طیب اردوان

  • Post author:
  • Post category:دنیا
  • Post last modified:26/01/2021 14:46
  • Reading time:1 mins read

استنبول(ڈییسک)ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ملک نے ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں،انھوں نے اپنی سیاسی جماعت آک پارٹی کے استنبول ضلعی دفتر سے دینزلی، مرسن اور اوشاق کے ضلعی دفاتر میں منعقدہ ساتویں معمول کے اجلاس میں براہ راست رابطے کے ذریعے شرکت کی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ترکی نے جمہوری تاریخ میں سر انجام دیے جانے والے تمام تر امور سے کئی گنا محض حالیہ 18 برسوں میں سر انجام دیا ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ہر شعبے میں انقلاب برپا کرنے کا اظہار کرنے والے اردوان نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم کے خلاف جدوجہد سے لے کر ہماری سرحدوں کے تخفظ اور تمام تر مظلومین کی جانب امدادی ہاتھ بڑھانے تک کی با وقار اور پر عزم پالیسیوں کی بدولت ہم نے اپنے ملک کی ساکھ کو بڑھایا اور ہر شہری کے معیار زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ ہماری کامیابیوں و کامرانیوں کے عقب میں یہ فخریہ محنت و مشقت پنہاں ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک جو کچھ بھی کیا گیا ہے اس میں ترک قوم کا پورا ہاتھ ہے ، ترکی کو سال 2023 کے اہداف کی جانب پہنچانے، 2053 کے ویژن سے بھی ہمکنار کرنے کو ہم ترک ملت کے ساتھ مل جل کر سر انجام دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی سیاسی پالیسیوں کو 83 ملین شہریوں کے دلوں کو فتح کرتے ہوئے آگے بڑھائیں گے ، ہم پہلے دلوں میں جگہ بنائیں گے پھر ووٹ طلب کریں گے۔

 

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.