You are currently viewing بھارت میں مذہبی اور سیاسی جبر کے خلاف امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش

بھارت میں مذہبی اور سیاسی جبر کے خلاف امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش

واشنگٹن (ڈیسک)بھارت میں مذہبی اور سیاسی جبر کے خلاف امریکی سینیٹ میں ایک قرارداد پیش کر دی گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق وسکنسن سے خاتون سینیٹر ٹامی بالڈون کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا کہ امریکی حکومت بھارت میں جاری امتیازی پالیسیوں کا معاملہ اٹھائے۔
مذہبی آزادی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور کوئی بھی ملک مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرے تو امریکا کو کھڑا ہونا چاہیے، بھارت معصوم شہریوں کی زندگی خطرے میں ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت اپنے شہریوں کو حق رائے دہی سے بھی محروم کر رہا ہے، وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں مذہبی آزادی میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے اور بھارتی حکومت مسلمانوں اور عیسائیوں سے امتیازی سلوک کرتی ہے۔
قرار داد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی پالیسیوں کا معاملہ اٹھایا جائے اور پرامن مظاہرین پر تشدد کے خاتمے اورمنظم مذہبی اور سیاسی ظلم و ستم رکوانے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالا جائے۔
قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہبی آزادی بنیادی حق ہے اور اس کی خلاف ورزی پر امریکا کو آواز بلند کرنی چاہیے ۔