Connect with us

دنیا

بحرین اوردوسرے علاقے ایران کا حصہ رہے ہیں، صدرحسن روحانی کا دعویٰ

تہران (ڈیسک)ایرانی صدر حسن روحانی نے انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر اپنی تقریر میں بعض انقلابی دعوے کرتے ہوئے کہاہے کہ متعدد عرب خلیجی ممالک تاریخی طور پر ماضی میں ایران کا حصہ رہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انھوں نے اپنی تقریر میں کہاکہ 47 سال قبل اور اسلامی انقلاب سے صرف سات سال پہلے غدار (رضا شاہ) پہلوی نظام کے زمانے میں جنوبی ایران کے ایک اہم حصے کو الگ کردیا گیا تھا۔ہم تاریخ میں یہ پڑھ چکے ہیں کہ جغرافیائی طور پر یہ ایران کا حصہ تھا اور اس کا چودھواں صوبہ تھا مگر پہلوی نے اس کو الگ کردیا تھا۔حسن روحانی مملکت بحرین کا حوالہ دے رہے تھے۔اس کے بارے میں ایرانی حکام ماضی میں بھی یہ دعوے کر چکے ہیں کہ یہ ان کے ملک کا چودھواں صوبہ تھا۔اقوام متحدہ نے بحرین میں 1970ء میں ریفرینڈم کا انعقاد کرایا تھا اور اس کے نتیجے میں یہ ایک آزاد ملک کے طور پر معرضِ وجود میں آیا تھا۔صدر روحانی نے اپنی تقریر میں دعووں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں سال قبل ایران کے ایک بڑے حصے کو الگ کردیا گیا تھا اور ا س حصے میں ، خلیج کے جنوب میں بہت سے ممالک قائم کردیے گئے تھے۔انھوں نے اپنی تقریر میں یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس وقت آذر بائیجان ، آرمینیا اور جارجیا میں شامل بہت سے علاقے بھی ایرا ن کا حصہ تھے۔انھوں نے ایران کومادرِ وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ غدار قجر بادشاہت کے زمانے میں 205 سال قبل ایران کے شمال میں ایک بڑے حصے کو ملک سے الگ کردیا گیا تھا۔

اس کا اشتراک:

ٹکرز

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن میں منعقد ہوگا

-->

بیجنگ (ڈیسک) امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن میں منعقد ہوگا ۔

چینی وزارت خارجی کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ہفتے کے پانچوں روز بیجنگ میں مذاکرات جاری رہے اور ان مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے جبکہ مذاکرات میں مزید توسیع کا امکان ہے۔امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔انھوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی چین کے ساتھ معاملات تجارتی معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ہم ایسے میں چینی سامان پر ٹیرف ختم کرنا چاہیں گے تاہم انھوں نے کہا کہ مذاکرات انتہائی پیچیدہ ہیں۔امریکا نے تجارتی تنازع کے خاتمے کے لئے یکم مارچ کی ڈیڈ لائن دی ہے

Continue Reading

دنیا

حکومت امریکا کے ساتھ کسی دباؤ میں آئے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے،صدر روحانی

-->

ہران (ڈیسک)ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکا کے ساتھ کسی دباؤ میں آئے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب ایران کے طاقتور رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کوبے سود قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے’’ارنا‘‘ کے مطابق صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگر امریکی بات چیت کرنا چاہیں تو مخصوص اور متعین موضوع پر بات چیت کی جا سکتی ہے، مگر امریکیوں کو ایران کی حرمت کا احترام کرنے کے ساتھ ایران کے قانون اور بین الاقوامی اصولوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہم مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بات چیت کے لیے اب بھی تیار ہیں اور پہلے بھی بامقصد اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ صدر روحانی نے کہا کہ مذاکرات کی آڑ میں ایران، امریکا کا کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرے گا اور نہ قومی حقوق پر کسی قسم کی سودے بازی کی جائے گی۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکا ہمارا دشمن ہے اور اس کے سامنے ہتھیار پھینکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ایرانی قوم ایران کے سامنے ایک بار جھک گئی تو ایران کی شناخت ہی مٹ جائے گی۔ اس لیے ہمیں امریکا کے ساتھ استقامت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات بے سود ہیں۔ اپنی آفیشل ویب سائٹ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی بھی مسئلہ قابل نہیں۔ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات، گھاٹے کا سودا ہے۔خامنہ ای نے مزید لکھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، امریکیوں سے مذاکرات اقتصادی اور روحانی خسارے کے سوا کچھ نہیں۔

Continue Reading

دنیا

افغانستان سے فوجیوں کی یکطرفہ واپسی نہیں ہو گی،پینٹاگون چیف

-->

واشنگٹن (ڈیسک)پینٹاگون کے چیف کا کہنا ہے کہ امریکا، افغانستان سے اپنے فوجیوں کی یکطرفہ واپسی نہیں کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون چیف نے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا کہ افغان امن مذاکرات میں کابل حکومت کو لازمی حصہ بنایا جائے‘افغان حکومت کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔امریکا کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینفر سٹولٹنبرگ نے اشرف غنی کی افغان حکومت کی امن مذاکرات میں شمولیت میں تاخیر پر خبردار کیا۔دوسری جانب قائم مقام امریکی سیکریٹری دفاع پیٹریک شنہان نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ نیٹو سے مشاورت کے بعد ممکن ہوگا۔واضح رہے کہ نیٹو فورسز، افغانستان میں عسکری تربیت اورسپورٹ مشن کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں موجود 14 ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی چاہتے ہیں لیکن خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکا، کابل میں پائیدار امن قائم کیے بغیر انخلا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔بعد ازاں برسلز میں نیٹو ڈیفنس وزرا سے بات چیت کے بعد پیٹریک شنہان نے بیان دیا کہ ’واشنگٹن اکیلا ہی فیصلہ نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ امریکی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کو ضرورت کے مطابق سیاسی اہمیت نہیں دی جارہی۔اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ ممکنہ طور پر امن پر بات کی جائے۔یاد رہے کہ چند روز قبل طالبان نے امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد سے رواں ماہ مذاکرات کے لیے 14رکنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔منگل کو اعلان کردہ طالبان کی ٹیم کی قیادت ملا عباس استنکزئی کریں گے جبکہ ٹیم میں گوانتاناموبے میں امریکی قید میں رہنے والے 5 سابق قیدی بھی شامل ہیں، جنہیں امریکی قیدیوں کے بدلے 2014 میں رہا کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران طالبان اور امریکا کے درمیان افغانستان میں امن کے قیام اور 18سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں تیزی ا?ئی ہے۔امریکی صدر ڈونلنڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اپریل میں افغانستان سے نصف امریکی فوجی واپس لوٹ جائیں گے۔

Continue Reading
/

Facebook

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں