You are currently viewing ایمیزون نے بھارت میں ڈسٹری بیوشن سروسزبھی بند کردیں

ایمیزون نے بھارت میں ڈسٹری بیوشن سروسزبھی بند کردیں

نئی دہلی (ڈیسک)مودی کی قیادت میں بھارت میں عالمی مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے معاندانہ ماحول دکھائی دے رہا ہے جہاں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے بعد اب ٹیکنالوجی اور ای کامرس کی بڑی کمپنی ایمیزون نے بھی خوراک کی مصنوعات کی فراہمی اورتعلیم کے بعد اپنی ڈسٹری بیوشن سروسز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمیزون ڈسٹری بیوشن بنیادی طور پر بنگلورو، ہبلی اور میسور میں کام کرتی ہے اور اس میں تقریبا 50 افراد کام کرتے ہیں۔ ڈسٹری بیوشن یونٹ کمپنیوں سے صارفین کے سامان کو تیزی سے ترسیل کرتے ہیں اور انہیں پرچون فروشوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
ٹیک بیہومتھ نے بھی پچھلے ہفتے اپنی ٹیک سروس ایمیزون اکیڈمی سے معاہدہ ختم کردیا۔کمپنی نے ایمیزون اکیڈمی کورونالاک ڈان کے دوران شروع کی تھی جب ،ویدانتو ،یونیکیڈ،میویجوز اور دیگر کمپنیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں۔
کمپنی کو گزشتہ ہفتے وزارت محنت نے اس کے رضاکارانہ علیحدگی کے پروگرام کے بارے میں سماعت کے لیے طلب کیا تھا، یہ ایک منصوبہ ہے جس کے تحت بھارتی ملازمین کو بعض مالیاتی فوائد کے بدلے کمپنی کی ملازمت چھوڑنے کے لئے کہاگیا ہے۔
وزارت محنت کے ڈپٹی چیف کمشنر اے انجانپا نے ایمیزون کی سینئر پبلک پالیسی مینیجر سمیتھا شرما کو ملازمین کی انجمن این آئی ٹی ای ایس کے ساتھ سماعت کے لیے طلب کیاتھا۔سماعت میں کمپنی نے دعوی کیا کہ ملازمین کی جانب سے اخراج رضاکارانہ تھا اور ملازمین پر مستعفی ہونے کے لیے کوئی غیر ضروری دبا ئونہیں ڈالا گیا۔ ملا
زمین کے نمائندے سماعت میں شریک نہ ہوسکے اور سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ اجلاس دو سے تین ہفتوں میں دوبارہ بلایا جائے گا۔