You are currently viewing آئی جی سندھ کے سامنے تاجر پھٹ پڑے، شکایتوں کے انبار

آئی جی سندھ کے سامنے تاجر پھٹ پڑے، شکایتوں کے انبار

کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی کے تاجروں نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ رفعت مختار کے سامنے شکایتوں کے انبار لگا دیے۔
آئی جی سندھ نے بھی اعتراف کیا کہ یہاں ہر بندہ لالچی ہے، حرام عام ہے، پولیس والے بھی کھاتے ہیں۔
ایف پی سی سی آئی میں آئی جی سندھ رفعت مختار کی آمد کے موقع پر تاجروں کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتیوں سے بڑھ کر معاملہ اب فیکٹریوں کے کنٹینرز اور ٹرک لوٹنے تک پہنچ گیا ہے۔
ایک صنعت کار نےبتایا کہ اس کے بیٹےکی ریوو گاڑی پرسوں نجی اسپتال سے چوری ہوئی ہے۔
ایک تاجر نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے پر روزانہ لوٹ مار کے 10 واقعات ہو رہے ہیں، کچھ ایکسپورٹرز نے لوٹے گئے لاکھوں روپے واپس کروانے پر سندھ پولیس کو سراہا۔
اس موقع پر آئی جی سندھ رفعت مختار کا کہنا تھا کہ کنٹینر چوری کرنے والے گینگز نے اپنے گودام بنا رکھے ہیں، وہ “سسٹم” کے نہیں ہیں، نہیں جانتے زمین پر قبضے میں “سسٹم” کا کیا کردار ہے، یہاں ہر بندہ لالچی ہے، حرام عام ہے، پولیس والے بھی کھاتے ہیں، زمین کے مسائل میں پولیس بھی مفاد کے لیے گھستی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک سسٹم نہیں بنے گا مسائل حل نہیں ہوں گے، مافیاز کو ختم کرنا کسی ایک بندے کا کام نہیں۔
بھتے کی پرچیوں کے سوال پر انھوں نے بتایا کہ 54 میں سے 12 کیسز منظم بھتہ خوری کےتھے، باقی کسی عزیز، رشتہ دار نے کوئی بدمعاشی کی ہوتی ہیں۔

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.