You are currently viewing افغان جنگ میں 26 ہزار بچے ہلاک یا معذور ہو چکے ہیں،رپورٹ

افغان جنگ میں 26 ہزار بچے ہلاک یا معذور ہو چکے ہیں،رپورٹ

  • Post author:
  • Post category:دنیا
  • Post last modified:24/11/2020 17:11
  • Reading time:1 mins read

لندن(ڈیسک)گزشتہ 14 برسوں میں جنگ کے دوران افغانستان میں اوسطاً ہر روز پانچ بچے ہلاک یا زخمی ہوتے رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں کیا۔

سیو دی چلڈرن نے کہا کہ افغانستان بچوں کے لیے دنیا کے 11 خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2005 اور 2019 کے دوران کم از کم 26,025 مارے گئے یا معذور ہوئے۔یہ رپورٹ افغانستان کی امداد سے متعلق پیر کو ہونے والی کانفرنس سے چند گھنٹے قبل جاری کی گئی۔رپورٹ کے مطابق 2017 اور 2019 کے دوران تین سو سے زائد سکولوں پر حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں410 بچے زخمی ہوئے یا مارے گئے۔تنظیم نے امداد دینے والی اقوام سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے لیے امدادی رقوم میں اضافہ کریں، تاکہ ان کی اور معذور اور غیر محفوظ لوگوں کی بہتری کے لیے کام کیا جا سکے۔افغان باشندوں کے تکلیف دہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے تنظیم کے ڈائریکٹر کرس نیامندی نے کہا کہ وہ خوف و ہراس کی صورت حال میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں ہر وقت یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں وہ کسی خود کش حملے یا فضائی حملے میں مارے نہ جائیں۔نیامندی نے کہا کہ یہ ان ہزاروں افغان والدین کے لیے ایک سنگین صورت حال ہے جن کے بچے اس طرح کے حملوں میں ہلاک یا معذور ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کے بچوں کی نصف تعداد سکول جا کر تعلیم حاصل نہیں کر پا رہی، جن میں سے 60 فی صد لڑکیاں ہیں۔تنظیم کی رہنما کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلا  نے افغانوں اور خصوصاً بچوں کے لیے انسانی صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ ان حالات میں جنیوا میں ہونے والی کانفرنس بہت اہمیت کی حامل ہے تاکہ امداد دینے والی حکومتیں افغانستان کے بچوں کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کریں جنہیں اب پہلے سے کہیں زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.