You are currently viewing اسامہ ستی قتل  کیس میں اہم پیش رفت: گرفتار پولیس اہلکاروں کا اعتراف

اسامہ ستی قتل کیس میں اہم پیش رفت: گرفتار پولیس اہلکاروں کا اعتراف

اسلام  آباد(ڈیسک) اسامہ ستی قتل  کیس میں اہم پیش رفت، گرفتار پولیس اہلکاروں نے انسداد دہشتگردی کی  عدالت میں اعتراف  کر تے ہوئے کہا ہےکہ ہم پر گاڑی سے فائرنگ نہیں کی گئی

اسامہ قتل  کیس میں اہم پیش رفت ، گرفتار پولیس اہلکاروں نے انسداد دہشتگردی کی  عدالت میں اعتراف  کر تے ہوئے کہا ہےکہ ہم پر گاڑی سے فائرنگ نہیں کی گئی،ملزمان نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ تھانہ شمس کالونی نے اطلاع دی کہ ڈکیتی ہوئی ہے، کہا گیا سری نگر ہائی وے پر آجائیں، سفید کلر کی ایک گاڑی ہے، جس میں 4 لوگ سوار ہیں، ہر صورت گاڑی کو روکنا ہے۔، گاڑی کا پیچھا کیا تو تین اشاروں پر گاڑی نہیں روکی، پھر گاڑی پر فائر کیا

جس پر جج نے ریمارکس دیےکہ  گاڑی نہ رکنے پر سیدھے فائر کرکے بےگناہ کی جان کیسے لی جاسکتی ہے؟۔

عدالت نے کہا کہ اسامہ کے پاس چھوٹی گاڑی تھی، تمہیں نہیں معلوم گاڑی کیسےروکنی ہے؟ کیا گاڑی پر گولیاں برسا دو گے؟۔

تفتیشی افسر نے ملزمان کے مزید 12 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور بتایا کہ واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کر لیا ہے، مقتول کو 5گولیاں پیچھے اور ایک سامنے سے لگی ہے، تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھی بنائی گئی ہے۔

عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقوعہ کی اصل تصویر ہی نہیں بنائی ، اس کا مطلب کہ تم ملزمان سے ملے ہوئے ہو؟۔

عدالت نے گرفتار پولیس اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 روز کی توسیع کردی۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان اسامہ ندیم جاں بحق ہوگیا تھا۔

ابتدائی طور پر پولیس نے واقعےکو ڈکیتی کا رنگ دیا تھا،بعد ازاں پانچ پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

نوجوان طالب علم کی ہلاکت کے واقعے کی فوری جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ کیا گیا۔

 

دوسری جانب اسلام آباد واقعے کے  دو دن بعد کراچی سے بھی ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا جس میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان کی ہلاکت ہوئی ، کراچی پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں اتوار کو چار افراد کو مبینہ مقابلوں میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ یہ لوگ ڈاکو ہیں۔

ان افراد میں گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ سلطان نذیر بھی شامل تھے جن کے ورثا کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈاکو نہیں تھے بلکہ تعلیم کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھے۔

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.