You are currently viewing آٹا بحران کے بعد چینی  بحران

آٹا بحران کے بعد چینی بحران

ابھی آٹے کا بحران سنبھلا نہیں کہ ایک اور بحرا ن سر اٹھانے لگا ،گندم کے بعد چینی کا بحران بھی آنے کو تیار حکومت  نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ بحران پہلے والے سے کئی زیادہ سنگین ہوسکتا ہے

ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے یہاں جگہ جگہ مافیا کا راج ہے اور ایسے مافیا  کا جن  کی ہوس ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی،غریب کسان سارا سال اپنی فصل تیار کرتا ہے اور  یہ مافیا اسے اس کی محنت کوڑیوں کے بھاؤ بیچنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ اس وقت ملک بھر میں چینی کی قیمت 80روپے فی کلو ہے ،اب اس  کی اصل رقم کی ہم اگر تفصیلات میں جائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ مافیا  کس طرح سے کروڑوں،اربوں  کے دھندے میں مصروف ہے ، غریب کسانوں کی مہینوں کی محنت اور ان کے خون پسینے سے  کاشت کیے جانے والے گنے کو  سستے داموں  خرید  کر شوگر ملز مالکان اس سے لاکھوں ٹن چینی  حاصل کرتے ہیں جبکہ گنے سے حاصل کردہ ملاسس  بھی مارکیٹ میں 15 سے 16 ہزار پر ٹن  بکتا ہے ۔جبکہ اس سے بننے والا ایتھنول00 5 سے 600 ڈالر پر ٹن ایکسپورٹ ہوتا ہے ، گنے کا بگاس  یعنی رس نکالنے کے بعد بچ جانے والا چھلکا بھی انرجی پیدا کرنے کے کام آتا ہے،مطلب شوگر ملز مالکان کی  پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑائی میں  لیکن پھر بھی کاغذوں میں شوگر ملز خسارے میں اور حقیقت میں ان کے مالکان ارب پتی ہوتے ہیں

شوگر ملز مافیا اتنا  طاقتور ہے کہ یہ اپنے من پسند معاملات  وفاقی یا صوبائی حکومت سے دنوں میں منوالیتا ہے چاہے وہ ایکسپورٹ کروانے کی پالیسی ہو یا لوکل ٹی سی پی کے ذریعے حکومت کو مال بیچ کے پیسے کمانا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ 90 فیصد ملز مضبوط ترین سیاستدانوں کی ہیں ۔ جن کے ہاتھ میں ملک کی باگ دوڑ  ہے  جن کی شوگر ملوں کی تعداد بھی لوگوں کو نہیں معلوم ،10  ،10 ،شوگر ملیں اس ملک کے گزرے ہوئے صدر اور وزیراعظم کی ہیں اور وزرا کی  تو کوئی گنتی ہی نہیں ۔مالی  اور سیاسی طور پر یہ مافیا اتنا مضبوط ہے جس طرح کا چاہتا ہے اپنے حق میں  SROجاری کروالیتا ہے  ۔ گزشتہ دو سالوں میں  سبسڈائز نرخوں   پر  تقریبا 25 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ ہوئی جس میں 50 فیصد سبسڈائز رقم  ن لیگ کی گزشتہ حکومت  نے دی تھی جبکہ بقایا کہ 50 فیصد صوبائی حکومتوں نے ادا کیے تھے ،مسلم لیگ ن کی حکومت نے  چینی ایکسپورٹ کی جو پالیسی بنائی اسے تبدیلی سرکار  نے بھی تبدیل نہیں کیا سوائے اس کے کہ وفاقی حکومت نے  سبسڈی دینے سے انکار کردیا صوبوں نے اپنے طور پر سبسڈی  دی جو کہ تاحال جاری ہے ۔ گزشتہ سالوں میں ایکسپورٹ کی گئی چینی پر تقریبا 20 روپے فی کلو پر سبسڈی دی گئی ہے جو کہ تقریبا 20 ہزار پر ٹن اور  مجموعی طور پر 50 ارب روپے بنتے ہیں ۔ستم ظریفی تو یہ ہے آج جب چینی کا بحران عروج پر ہے اور فصل کی بھی قلت ہے آج  کی تاریخ میں  بھی 12 ہزار 3 سو 97 ٹنز دو اسٹار شوگر مل کو  کوٹہ اسٹیٹ بینک  کی جانب سے ایکسپورٹ کرنے کے لیے اپروو کیا گیا ہے جس کی مانیٹرنگ براہراست اسٹیٹ بینک کرتا ہے ۔جبکہ گزشتہ سالوں میں ایکسپورٹ ہونے والی شوگر میں سب سے بڑا نام JDW ،ہنزہ شوگر ،فاطمہ شوگر ،ٹو اسٹار ،   المعیز شوگر مل ،اتحاد شوگر مل ،انڈس شوگر مل ،اور اس کے علاوہ درجنوں ملوں نے  لاکھوں ٹن چینی ملک سے باہر بھیجی حالانکہ حکومت کو چاہیئے تھا کہ کم سے کم ایک سال کا چینی کا اسٹاک ضرورریزرو رکھنا چاہیئے لیکن مل مالکان کے پریشر پر ہمیشہ گھٹنے ٹیک دینے والی تمام حکومتیں  اس جرم میں شامل رہی ہیں کیونکہ یہ  ملیں براہراست حکومت چلانے والوں کی ہی ہوتی ہیں ۔ حکومت کی نا اہلی اور نالائقی کے باعث اس سال چینی  کی امپورٹ ناگزیر ہوچکی ہے جس سے  زرمبادلہ پر  بہت زیادہ دباؤ پڑے گا کیونکہ آج عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت fob  400 ڈالر سے زیادہ بڑھ چکی ہے جبکہ کرائے ملا کر یہ کم سےکم 450 سے 475 ڈالر پر ٹن سی این ایف  بغیر کسی ڈیوٹی کو شامل کیے یہ  کراچی کوسٹ کرے گی ۔حکومت کو ابھی بھی چاہیئے کہ فی الفور چینی کی  نہ صرف ایکسپورٹ بند کرے بلکہ  را  شوگر امپورٹ کرنے کی ابھی سے  تیاری کرے تاکہ کم سے کم قیمت پر  عوام کو چینی دستیاب ہو ۔ شوگر مافیا نے ابھی سے اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے لوکل مارکیٹ میں قیمتیں بڑھانی شروع کردیں ہیں  گزشتہ 10 دنوں میں 12 سے 15 روپے کلو چینی مہنگی ہوچکی ہے جبکہ   شوگر  ملز مالکان اس کی قیمت اور بھی بڑھانے کا اعلان کر رہے ہیں  اگر بروقت کارروائی نہیں کی گئی تو چینی کی قیمت 100 روپے تک پہنچ جائے گی ۔حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے جو چینی ہم نے 300 ڈالر کے آس پاس  سبسڈی دے کر ایکسپورٹ کی وہی آج ہم 450  سے 475 ڈالر پر ٹن پر امپورٹ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ناظرین آپ نے دیکھا کس طرح یہ مافیا  اربوں  کا دھندہ کر کے   قومی خزانے کو کھربوں ٹیکا لگادیتا ہے ہمارا کام تھا حقائق عوام کو بتانا ہم  نے اپنا فرض ادا کردیا اس پر ایکشن لینا حکومت    کی ذمہ داری بھی ہے اور فرض  بھی۔

 

Staff Reporter

Rehmat Murad, holds Masters degree in Literature from University of Karachi. He is working as a journalist since 2016 covering national/international politics and crime.