You are currently viewing آرمی ایکٹ کے تحت چارج ہی نہیں تو فوجی تحقیقات کیسے کی جا سکتی ہیں؟

آرمی ایکٹ کے تحت چارج ہی نہیں تو فوجی تحقیقات کیسے کی جا سکتی ہیں؟

اسلام آباد (ڈیسک) سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے، جس میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل ہیں۔
کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو وکیل عزیر بھنڈاری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ احمد فراز کے فوج کے خلاف اشعار لکھنے پر کیس چلا تھا، اس کیس کے فیصلے میں بھی کہا گیا کہ سویلین پر آرمی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا،
وکیل عزیر بھنڈاری نے مزید کہا کہ 9مئی کے واقعات کی ایف آئی آر انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت کاٹی گئیں، یہ جرائم قابلِ ضمانت ہیں، آرمی ایکٹ میں نہیں آتے، اعتزاز احسن نے اپنی پٹیشن میں حبسِ بے جا کی بھی درخواست دی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 12کے تحت تو بیان کردہ جرائم قابلِ ضمانت ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کسی فرد پر آرمی ایکٹ کے تحت چارج ہی نہیں تو فوج تحقیقات کیسے کر سکتی ہے؟ جب کوئی آرمی ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتا تو اس کے خلاف کارروائی کیسے ہوسکتی ہے؟
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کہ سمجھ سے باہر ہے کہ جب کسی کے خلاف ثبوت نہیں تو فوج اسے گرفتار کیسے کر سکتی ہے؟
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک مجسٹریٹ بھی ملزم کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا جب تک پولیس رپورٹ نہ آئے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق تو گرفتار افراد کے خلاف کوئی چارج نہیں، چارج کے بغیر کیسے کسی شخص کو فوجی تحویل میں رکھا جا سکتا ہے؟
چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کے خلاف شواہد نہ ہونے پر کارروائی کرنا تو مضحکہ خیز ہے۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو افراد غائب ہیں ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرمی رولز کے مطابق پہلے گرفتار کیا جاتا ہے پھر تحقیقات یا کارروائی کا آغاز ہوتا ہے۔